صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 114 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 114

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۱۴ ٢٤ - كتاب الزكاة با وجود اور حاصل کرنے کے لئے جھانکنا۔ یعنی حرص و طمع کرنا اور قانع نہ ہونا۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ۔ ہی ہے جو کھائے اور سیر نہ ہو۔ ایسا کھانا اس کے لئے طبعا وبال جان ہوگا۔ غرض برکت کثرت و فراوانی میں نہیں بلکہ قناعت اور استغناء نفس میں ہے جو تھوڑی شئے میں بھی بآسانی حاصل ہو سکتی ہے۔ قناعت نفس؛ راحت کا وہ احساس پیدا کرتا ہے جو دولت کی فرادانی نہیں کر سکتی۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ دولت کی فراوانی اشراف نفس طمع و حرص کے بیسیوں در بیچے کھول کر راحت کو اضطراب کی دائمی کیفیت میں تبدیل کر دیتی ہے اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے : كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ۔ یعنی وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ اور آیت وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) (الحشر: ۱۰) {پس جو کوئی بھی نفس کی خساست سے بچایا جائے تو یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔} میں اسی حرص سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ گئی ہے۔ شُحَّ کے معنے حرص اور بخل دونوں ہوتے ہیں۔ سورۃ التغابن کی آیت نمبرے میں شح بمعنے بخل وارد ہوا ہے اور سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۹ میں یہ لفظ دونوں معنوں میں ہے۔ ان آیتوں میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ فلاح یعنی کامرانی اسی امر میں ہے کہ انسان قانع ہو ؛ حریص نہ ہو۔ بَاب ٥١ : مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ جس کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے اور بغیر طمع نفس کے دے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ اور اُن کے مالوں میں مانگنے والے کا اور اس کا جو وَالْمَحْرُومِ (الذاريات : ٢٠) مانگنے سے محروم ہے ، حق ہے۔ ١٤٧٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۱۴۷۳: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ زہری سے، زہری نے سالم ۔ سالم سے روایت کی کہ حضرت اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُوْلُ كَانَ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے حضرت عمر رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقْوْلُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ وظیفہ دیتے تو میں کہتا: آپ اُن کو دیجئے جو مجھ سے زیادہ اس کے محتاج ہوں تو آپؐ فرماتے : اس مال إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ خُذْهُ إِذَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا میں سے جب کچھ تمہارے پاس آئے تو اُسے ایسی الْمَالِ شَيْءٍ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا حالت میں لے لو جبکہ تم نہ خواہشمند ہو اور نہ سائل اور سَائِل فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ۔ جو نہ ملے تو اپنے نفس کو اُس کے پیچھے مت لگاؤ۔ اطرافه: ٧١٦٣، ٧١٦٤