صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 110
صحيح البخاری جلد۳ 11+ باب ٥٠ : الْإِسْتِعْفَافُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ سوال سے بچنا ٢٤ - كتاب الزكاة ١٤٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۴۶۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِ عَنْ أَبِي انہوں نے عطاء بن یزیدیشی سے، عطاء نے حضرت سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ علہ سے مانگا۔آپ مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی نے انہیں دیا۔پھر انہوں نے آپ سے مانگا اور آپ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوْهُ نے انہیں دیا۔پھر انہوں نے آپ سے مانگا اور آپ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوْهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى نے انہیں دیا۔یہاں تک کہ آپ کے پاس جو تھا وہ ختم نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ ہو گیا۔آپ نے فرمایا: جو مال بھی میرے پاس ہوگا ، میں اس کو تم سے ہرگز چھپا نہیں رکھوں گا اور جو سوال خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ او سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے بچائے گا اور جو ( دنیا يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ کے مال سے ) بے نیاز ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ بھی يَتَصَبَّرُ يُصَبِّرْهُ اللهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ اُسے بے نیاز کر دے گا اور جو اپنے نفس پر زور ڈال کر عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔صبر کرے گا ، اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دے گا اور صبر سے بڑھ کر وسیع اور بہتر کسی کو بھی کوئی نعمت نہیں دی گئی۔اطرافه: ٦٤٧٠۔١٤٧٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۱۴۷۰ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ أَبِي الزِنَادِ (کہا: ) مالک نے ہمیں بتایا کہ ابوزناد سے مروی ہے۔عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لان نے فرمایا: اُسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری