صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 109 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 109

صحيح البخاری جلد۳ 1+9 ٢٤ - كتاب الزكاة سے زکوۃ دگنی لینے کا ارشاد فرمایا۔ان کے مقام قرابت کی وجہ سے دو گنا وصول کیا اور خالد بن ولیڈ کی طرف سے معذرت فرمائی۔خلاصہ یہ کہ امام مصرف زکوۃ سے متعلق وسعت اختیار کرنے کا مجاز ہے۔آپ نے صدقہ کے اونوں پر حج کرنے کے لئے بعض صحابہ کو سوار کیا۔(دیکھئے باب (۴۹) اور آپ کا یہ تصرف بھی فی سبیل اللہ کی شق میں داخل ہے۔قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام وہ کام جو رعایا کی بہبود و استحکام و حفاظت اور ان کی ترقی کے لئے ضروری ہیں مصرف زکوۃ سے متعلق ہیں۔یعنی علماء کے نزدیک اس میں ملک کے نظم ونسق و تعمیری کام مثلاً شفا خانے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر اور پولیس اور فوج وغیرہ کے انتظامات سب شامل ہیں۔امام مالک بھی اسی وسعت مصرف کی تائید میں ہیں۔کتاب الاحکام ( ابن عربی ) میں اُن کا قول اِن الفاظ میں منقول ہے : سُبُلُ اللَّهِ كَثِيرَةٌ وَفِيهَا الْغَزْرُ۔یعنی اللہ کی راہیں جن میں مصرف زکوۃ سے خرچ کیا جانا چاہیے بہت ہیں اور اُن میں جنگیں بھی شامل ہیں اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نزدیک آیت إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ میں لفظ إِنَّمَا حضر کے لئے نہیں جس سے بعض فقہاء نے سمجھا ہے کہ مذکورہ اقسام کے سوا زکوۃ خرچ نہ کی جائے۔شاہ صاحب موصوف نے ان کی اس غلط فہمی کو بایں الفاظ دور فرمایا ہے: الْحَصْرُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ إِضَافِيِّ بِالنِّسْبَةِ إِلَى مَا طَلَبَهُ اللَّهُ الْمُنَافِقُونَ فِي صَرْفِهَا فِيمَا يَشْتَهُونَ (حجة الله البالغة، ابواب الزكاة، بيان المصارف یعنی منافق چاہتے تھے کہ زکوۃ اُن کی خواہشات پوری کرنے کے لئے دی جائے۔انہیں جواب دیا گیا ہے کہ زکوۃ کا مصرف تو فلاں فلاں قسم کے محتاجوں اور فی سبیل اللہ یعنی رفاہِ عامہ کے لئے ہے۔غرض فی سبیل اللہ کی اصطلاح میں بہت وسعت ہے اور اسی وسعت کی طرف توجہ منعطف کروانے کی غرض سے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔خلاصہ یہ کہ امام موصوف نے سورۃ توبہ کی جس آیت ( نمبر ۶۰) کا حوالہ دیا ہے، اُس میں مصارف زکوۃ کی آٹھ قسمیں بیان ہوئی ہیں جن کی تشریح متعدد ابواب میں اختلاف فقہاء کے پیش نظر الگ الگ کی گئی ہے۔یہ آٹھ قسمیں حسب ذیل ہیں: (1) الْفُقَرَاء - اس کی تشریح باب ۵۲ ۵۳ میں ہے۔(۲) الْمَسَاكِينِ۔اس کی تشریح کے لیے باب ۵۰ دیکھئے۔(۳) وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا یعنی عملہ تحصیل زکوۃ۔اس کی تشریح کے لیے باب ۶۷ دیکھئے۔(۳) الْمُؤلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ - اس کی تشریح کے لیے دیکھئے باب ۵۳ روایت نمبر ۱۴۷۸۔(۵) وَفِی الرِّقَابِ یعنی غلاموں وغیرہ کی گلو خلاصی۔اس کی تشریح کے لیے دیکھئے باب ۴۹۔(1) الْغَارِ مِینَ یعنی جو دوسروں کی وجہ سے مالی طور پر زیر بار ہوں۔اس کی تشریح کے لیے دیکھئے باب ۵۳۴۹۔(2) فِي سَبِيلِ اللهِ یعنی رفاہ عامہ اس کے لیے دیکھئے باب ۴۹۔(۸) وَابْنِ السَّبِيلِ یعنی مسافر۔اس کے لیے دیکھئے باب ۶۸۔اس باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اُس میں مستحقین زکوۃ کے زمرہ میں مؤلفۃ القلوب کا بھی ذکر ہے۔ان سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی ایمانی حالت کمزور ہو اور وہ تعلیم و تربیت اور اصلاح نفس کے محتاج ہوں اور وہ لوگ بھی جو اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہیں اور ضرورت ہے کہ ان سے نیک رابطہ قائم کیا جائے۔فتنہ وفساد کا انسداد بھی اخراجات چاہتا ہے۔یہ مصرف بھی اسی شق میں شامل ہے۔