صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 108 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 108

صحيح البخاری جلد۳ I+A ٢٤ - كتاب الزكاة وَمِثْلُهَا مَعَهَا۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: زکو و ان پر واجب ہے اور حُدِّثْتُ عَنِ الْأَعْرَجِ مِثْلَهُ۔اتنی ہی اور۔اور ابن جریج نے کہا: اعرج سے روایت کرتے ہوئے مجھے مثلھا کی جگہ مثلہ بتایا گیا۔تشریح: وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ الله : آیت صدقہ محولہ بالا کی تشریح کے بارے میں بھی ائمہ کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔امام مالک نے رقاب سے مراد لونڈی غلام کی ہے۔جنہیں خلیفہ وقت مال زکوۃ سے خرید کر آزاد کرے اور ایسے آزاد کردہ لونڈی اور غلام کا ورثہ بیت المال کا حق ہوگا۔امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک وہ مکاتب غلام ہے، جس نے اپنے مالک سے کچھ نقدی مقرر کر کے آزادی حاصل کی ہو اور پھر محنت مزدوری کر کے اسے بالا قساط یا جمع کر کے یکمشت ادا کرے۔مگر بعض فقہاء نے مکاتب غلاموں کو غار میں یعنی مقروضوں میں شامل کیا ہے اور انز قاب سے مطلق غلامی سے آزادی دلا نا مراد ہے قطع نظر اس سے کہ غلام مکاتب ہو یا غیر مکاتب، مسلم ہو یا غیر مسلم اور اس میں وہ بھی شامل ہیں جو بمنزلہ غلام ہوں۔مثلاً قرض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے قید میں ہوں۔الغارمین سے وہ لوگ مراد ہیں جو براہ راست ذمہ دار نہیں بلکہ کسی کی ضمانت دینے کی وجہ سے ماخوذ ہوں یا کسی رشتہ دار کی دیت انہیں دینی پڑے یا کسی اتفاقی حادثہ یا قصور کی وجہ سے جو اُن سے سرزد ہو گیا ہو، زیر بار ہوں یا تجارت میں دیوالیہ نکل گیا ہو۔ایسے اشخاص الغَارِ مین کی شق میں شامل ہیں۔الفاظ فِی سَبِیلِ اللهِ کی تشریح میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ نے جہاد اور سرحدوں کی حفاظت جیسے کام مراد لئے ہیں۔مگر امام شافعی نے غازی مراد لیتے ہوئے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ مستحق ہو اور اسی شہر کا رہنے والا ہو۔کیونکہ بموجب ارشادِ نبوى تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ (روایت نمبر ۱۳۵۸) زکوۃ ان کے نزدیک ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل نہیں کی جاسکتی اور بعض نے فی سبیل اللہ سے حج مراد لیا ہے۔غرض اس قسم کے فقیہا نہ اختلاف مدنظر رکھتے ہوئے اس حصہ آیت کے تحت الگ باب قائم کیا ہے اور عنوان باب میں کچھ حوالے بھی پیش کئے ہیں۔جن میں غلاموں اور جنگی قیدیوں کی آزادی اور مجاہدین اور حج کے لئے جانے والوں کی امداد میں خرچ کرنے کی صورتیں مروی ہیں۔ان حوالہ جات اور ائمہ کی تشریحات کے پیش نظر سبیل اللہ کا مصرف زکوۃ علی الاطلاق ملی وملکی تنظیم و استحکام اور رفاہ عامہ کے کاموں پر حاوی ہے۔آیت متعلقہ مصارف زکوۃ جامع آیت ہے جو فردی اور اجتماعی ضرورتوں کو شامل رکھتی ہے۔حوالوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۱۸ - عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۴۴) ان تمام صورتوں کو قبول کرتے ہوئے باب کے ذیل میں امام بخاری نے جو روایت پیش کی ہے، اس سے مصرف زکوۃ کی وسعت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔حضرت خالد بن ولید ایک مجاہد انسان تھے جو ہر وقت مسلح و برسر پیکار رہتے اور اس غرض کے لئے سامانِ جنگ پر وہ خرچ کرتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے اس خرچ کو ان کی طرف سے فی سبیل اللہ کی شق کے تحت قبول فرمایا ہے۔ابو جہم بن جمیل کے زکوۃ نہ دینے کو آپ نے نا پسند کیا اور اپنے چچا