صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 106
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۰۶ ٢٤ - كتاب الزكاة میں اس امر کا خیال رکھا بلکہ حکم دیا کہ اموال باطنہ کی زکوۃ اپنے طور پر دی جائے۔ چنانچہ کشف الغمہ میں بایں الفاظ تصریح ہے: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُوَلَّى النَّاسَ تَفْرِقَةَ زَكَاةِ أَمْوَالِهِمُ الْبَاطِنَةِ وَكَانَ يَكِلُّ أَمْرَ الْأَمْوَالِ الظَّاهِرَةِ إِلَى الْوُلاةِ اَحَبَّ النَّاسُ ذَلِكَ أَمْ كَرِهُوهُ۔ كشف الغمة عن جميع الأمة، كتاب أحكام الزكاة، باب كيفية إخراج الزكاة وتعجيلها، فصل في حكم أخذ القيمة) اور مبسوط سرخسی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے : فَوَّضَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْآدَاءَ إِلَى أَرْبَابِ الْأَمْوَالِ لَمَّا خَافَ الْمُشَقَّةَ وَالْحَرَجَ فِي تَفْتِيشِ الْأَمْوَالِ عَلَيْهِمْ مِنْ سُعَاةِ السُّوءِ فَكَانَ ذَلِكَ تَوْكِيلًا مِنْهُ لِصَاحِبِ الْمَالِ بِالْآدَاءِ فَنُقِذَ تَوْكِيلًا لَأَنَّهُ كَانَ عَنْ نَّظُرٍ صَحِيح۔ (المبسوط، كتاب الزكاة، الفصل الرابع) یعنی حضرت عمرؓ نے اموال باطنہ کی تقسیم خود صاحب نصاب کے سپرد کی۔ مگر اموال ظاہرہ کی تحصیل و تقسیم کارکنان حکومت کا فرض قرار دیا ؛ لوگ پسند کریں یا نہ کریں۔ حضرت عثمان نے بھی اسی طرح کیا ۔ جب اُنہیں برے کارکنوں سے لوگوں کی تکلیف کا خوف ہوا کہ وہ ان کے مالوں کی چھان بین میں غلط رویہ اختیار کریں گے اور یہ بات ر اختیار کریں گے اور یہ بات مسئلہ سے متعلق آپ کی صحت فکر و نظر کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ نے ایسا فرق ملحوظ رکھا ۔ تا کہ اموال باطنہ کی تحقیق وغیرہ سے لوگوں کو کسی مشقت کا سامنا نہ ہو اور کارکنوں کو دست اندازی کا موقع نہ ملے۔ ان خلفاء کے متعلق یہاں تک مروی ہے کہ اگر کوئی اموالِ باطنہ کی زکوۃ لاتا تو واپس کر دیتے اور تلقین فرماتے کہ مقامی حاجت مندوں میں تقسیم کی جائے ۔ (دیکھئے کشف الغمة، كتاب أحكام الزكاة، باب كيفية إخراج الزكاة وتعجيلها، فصل في حكم أخذ القيمة) باب ٤٩ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَفِي الرِّقَابِ وَالْغُرِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور گردنوں کی آزادی میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (التوبة: ٦٠ ) وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکور ہے کہ عَنْهُمَا يُعْتِقُ مِنْ زَكَاةِ مَالِهِ وَيُعْطِي فِي (انہوں نے کہا: ) اپنے مال کی زکوٰۃ سے غلام کو آزاد الْحَجِّ وَقَالَ الْحَسَنُ إِنِ اشْتَرَى أَبَاهُ کرے اور حج کے لئے دے اور حسن (بصری) نے کہا: اگر زکوۃ سے اپنے باپ کو خریدے (اور اسے مِنَ الزَّكَاةِ جَازَ وَيُعْطِي فِي آزاد کر دے ) تو جائز ہوگا اور جہاد کرنے والوں کے الْمُجَاهِدِيْنَ وَالَّذِي لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ تَلَا لئے بھی دے اور اسے بھی جس نے حج نہ کیا ہو۔ اس إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ (التوبة : ٦٠) کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی: ان مصرفوں میں