صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 105
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۰۵ ٢٤ - كتاب الزكاة إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ میرے لئے اجر ہوگا اگر میں ابو سلمہ کے بیٹوں پر خرچ کروں؟ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ۔ إطرافه: ٥٣٦٩ وہ تو میرے ہی بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان پر خرچ کرو۔ جو بھی تم نے ان پر خرچ کیا ہے، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ تشريح : الزَّكَاةَ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَبْنَامِ فِي الْحَجْرِ: عنوانِ باب میں حضرت ابوسعید ابوسعید کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ باب ۴۴ میں گزر چکی ہے۔ دیکھئے روایت نمبر ۱۴۶۲۔ اس باب میں بھی یہ روایت دہرائی گئی ہے۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ اس کے بچے پہلے خاوند کے تھے۔ سابقہ باب میں عام یتیموں کا ذکر ہے اور یہاں خاص تیموں کا۔ ابوداؤ دطیالسی اور نسائی جی کی لی روایتوں روایتوں میں میں ہے ہے ؟ کہ وہ یتیم بچے ، ان ان کے کے بھائی بھائی اور اور بہ بہن کے تھے اور نسائی کی روایت میں خاوند کے متعلق یہ الفاظ ہیں: خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ ہلکے ہاتھ کا محتاج ، خالی ہاتھ۔ اس روایت سے امام شافعی ، توری، محمد بن یوسف، امام مالک اور امام احمد بن حنبل نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کا اپنے خاوند کو زکوۃ دینا جائز ہے۔ لیکن اپنے والدین اور اپنی اولاد پر زکوۃ خرچ کرنا جائز نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۱۵) اس روایت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت زینب نے عام صدقہ کی بابت دریافت کیا تھا نہ زکوۃ کے متعلق ۔ جو بالا جماع اولا دکور دینا جائز نہیں ۔ لیکن یہ استدلال اس لئے ساقط الاعتبار ہے کہ اولاد کے اخراجات کے لئے ماں شرعاً مکلف نہیں بلکہ باپ ہے۔ اس لئے اس کا اپنی اولاد کو جن کے اخراجات مہیا کرنے کا ذمہ دار والد ہے زکوٰۃ دینا بے محل ہے۔ ماں جو ذمہ دار نہیں وہ اس پابندی سے آزاد رہ کر زکوۃ دے سکتی ہے۔ امام بخاری نے غالباً اپنے استدلال کی بناء اس بات پر رکھی ہے کہ حضرت زینب کہتی ہیں: أَيَجْزِى عَنِي أَنْ اَنْ اُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِى یعنی کیا ایسا خرچ ( صدقہ کا ) قائم مقام ہوگا؟ جو میں اپنے خاوند اور اپنے یتیموں کے لئے کروں؟ چونکہ سوال مطلق صدقہ سے متعلق ہے اس لئے زکوۃ وغیرہ دونوں پر شامل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب نعم بھی دونوں ہی پر محمول کیا جائے گا۔ أَي تُجْزِئُ عَنْكِ فَرْضًا كَانَ أَوْ تَطَوُّعًا ۔ یعنی تمہارا صدقہ تمہارے لئے کارآمد ہو گا خواہ فریضہ زکوۃ ہو یا طوعی صدقہ - ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۱۵) امام ابن حجر کے نزدیک مذکورہ استفسار دو مختلف سوال ہیں ۔ روایت نمبر ۱۴۶۲ والا واقعہ تو زیور صدقہ میں دینے سے متعلق ہے اور روایت نمبر ۱۴۶۶ والا واقعہ گھریلو اخراجات سے متعلق ہے۔ مگر عنوانِ باب کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں روایتیں ایک ہیں اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ صدقة السر اپنے طور پر خرچ کیا جا سکتا ہے اور محتاجوں میں سے عزیز واقارب اول درجہ پر مستحق ہیں ۔ ( باب ۱۳،۵، ۱۴ ، ۱۵) یہ امر کہ صدقة السر یعنی اموال باطنہ پر واجب الاداءز کو ۃ اپنے طور پر خرچ کی جاسکتی ہے جہاں قرآن مجید کی آیت اِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لكُم۔ (البقرۃ: ۲۷۲) { اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور انہیں حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔} سے ظاہر ہے وہاں مذکورہ بالا اجازت اور خلفائے راشدین کے تعامل سے ثابت ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان نے اپنے عہد خلافت (نسائی، کتاب الزكاة، باب الصدقة على الأقارب (مسند أبي داؤد الطيالسي الجزء السابع، ما روت زينب الثقفية، روایت نمبر ۱۶۵۳)