صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 104
صحيح البخاری جلد۳ ۱۰۴ ٢٤ - كتاب الزكاة أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَی تھیں۔اس لئے انہوں نے حضرت عبد اللہ کو کہا کہ صا الله أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ رسول الله علہ سے پوچھو، کیا میری طرف سے کافی فَقَالَ سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله نہیں ہوگا کہ میں اسی صدقہ سے تم پر اور { ان یتیموں پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى جو میری پرورش میں میں خرچ کروں۔تو حضرت عبداللہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے تم خود ہی پوچھو۔اس لئے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةٌ مِنَ میں نبی ﷺ کے پاس گئی۔میں نے دروازے پر انصار الْأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ حَاجَتُهَا مِثْلُ میں سے ایک عورت پائی۔اس کی حاجت بھی میری حَاجَتِي عَنِّي الله فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا سَلِ حاجت جیسی تھی۔اتنے میں حضرت بلال ہمارے پاس النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي سے گزرے۔ہم نے کہا: نبی ﷺ سے پوچھو کیا میری أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي طرف سے یہ کافی ہوگا کہ میں اپنے خاوند اور چند ایسے حَجْرِي وَقُلْنَا لَا تُخْبِرُ بنَا فَدَخَلَ قیموں پر جو میری گود میں ہیں صدقہ سے خرچ کروں؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَنْ هُمَا قَالَ زَيْنَبُ قَالَ أَيُّ اور ہم نے کہا: ہمارا پتہ نہ دینا۔چنانچہ وہ اندر گئے اور انہوں نے آپ سے پوچھا۔آپ نے فرمایا: وہ دو عورتیں الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ کون ہیں؟ حضرت بلال نے کہا: زینب۔آپ نے وَلَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصدقة۔پوچھا: زینبوں میں سے کونسی؟ حضرت بلال نے کہا: عبد اللہ بن مسعودؓ ) کی بیوی۔آپ نے فرمایا: ہاں۔اس کے لئے دواجر ہیں۔قرابت کا اجر اور صدقہ کا اجر۔١٤٦٧: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۱۴۶۷: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عبدہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زینب بنت سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ امّ سلمہ سے، { حضرت زینب نے حضرت ام سلمہ سے أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ روایت کی ہے ، وہ کہتی تھیں : میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ اینامی“ کی بجائے "ایام" ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۴۱۳) لفظ " عن أم سَلَمَةَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۴۱۳)