صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 103
صحيح البخاری جلد۳ ٢٤ - كتاب الزكاة صاف کرتا رہتا ہے وہ چارے سے فائدہ اٹھانے کے قابل رہتا ہے۔یہی حال اس انسان کا ہے جو حرص و ہوا کا مقابلہ کرتے ہوئے مال سے متعلق حقوق وواجبات ادا کرتا ہے۔یتیم کو صدقہ دینے کا ذکر باب نمبر ۴۸ میں بھی آتا ہے۔فقراء یعنی محتاجوں میں سے یتیم اول نمبر پر ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔روایت نمبر ۱۴۶۵ کی مذکورہ بالا مثال روایت نمبر ۲۸۴۲ میں بھی دہرائی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دولت کو مومن کا بہت اچھا ساتھی قرار دیا ہے۔بشرطیکہ اس کا استعمال موقع ومحل پر ہو اور حقوق العباد اس کے ذریعہ سے ادا ہوتے رہیں۔ورنہ اگر وہ نفس پروری اور خود غرضی کی راہوں میں خرچ ہو تو آخر وہ اسراف کی شکل اختیار کر کے انسان کی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔بَاب ٨ ٤ : الزَّكَاةُ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَيْتَامِ فِي الْحَجْرِ خاوند کو اور گود میں لئے ہوئے یتیم بچے کو زکوۃ دینا قَالَهُ أَبُو سَعِيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ۔یہ حضرت ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔١٤٦٦: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :١٤٦٦ عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ بیان کیا، کہا: ) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنِي شَقِيْقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ انہوں نے کہا: ) اعمش نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ کہا تحقیق نے مجھے بتایا۔شقیق نے عمرو بن حارث سے ، عمرو نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) کی بیوی عَنْهُمَا قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيْمَ فَحَدَّثَنِي حضرت زینب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔اعمش إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ نے کہا: میں نے اس حدیث کا ابراہیم (شخصی) سے الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ذکر کیا تو ابراہیم نے بالکل ایسی ہی حدیث مجھے بِمِثْلِهِ سَوَاءً قَالَتْ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ بتائی۔انہوں نے ابو عبیدہ سے، ابوعبیدہ نے عمرو بن فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حارث سے ، عمرو نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) کی فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيكُنَّ بیوی حضرت زینب سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : میں مسجد میں تھی۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ آپ نے فرمایا: تم عورتیں صدقہ کیا کرو۔خواہ اپنے وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ زیور ہی کا اور حضرت زینب ؛ حضرت عبداللہ پر اور سَلْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چند تیموں پر جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی