صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 102
صحيح البخاری جلد۳ ۱۰۲ ٢٤ - كتاب الزكاة حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ بھلائی بدی نہیں لایا کرتی اور ربیع جو اُگاتی ہے اُن عَيْنَ الشَّمْسِ فَتَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ میں ایسی نباتات بھی ہوتی ہے جو مار ڈالتی ہے یا وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَنِعْمَ مرنے کے قریب کر دیتی ہے۔مگر ہری گھاس کھانے والا جانور جس نے اتنا کھا لیا ہو کہ جب اس کی دونوں صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ کھو کھیں تن جائیں تو وہ سورج کی طرف منہ کر کے پتلا الْمِسْكِيْنَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيْلِ أَوْ پاخانہ کرے اور پیشاب کرے اور چرتا رہے اور یہ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مال بھی ہرا بھرا شیریں ہے اور مسلمان کا بہت ہی اچھا وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي ساتھی، جب تک کہ وہ اس مال سے مسکین کو اور یتیم کو يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَكُوْنُ شَهِيدًا عَلَيْهِ اور مسافر کو دیتا رہے یا جیسا نبی ﷺ نے فرمایا اور يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔بات یہ ہے کہ جو اس مال کو نا جائز طور پر لے گا وہ اس کی مانند ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہو گا۔اطرافه ۹۲۱، ٢٨٤٢، ٦٤٣٧۔ہے، اس کی رو سے آٹھ قسم کے اشخاص اس میں شریک ہیں۔فقراء، مساکین، عملہ تحصیل زکوۃ، مؤلفتہ القلوب ، غلام لونڈی اور گرفتار مصیبت کی آزادی، مالی تاوان سے رہائی ، فی سبیل اللہ یعنی دینی ولی کاموں میں اور ابن السبیل یعنی مسافروں کی امداد میں۔یتامی کا اس میں ذکر نہیں محولہ بالا حدیث میں یتیم مستحقین صدقات میں شامل کئے گئے ہیں۔یتیم اور اس کی پرورش کے بارے میں قرآن مجید میں علیحدہ تاکید کی گئی ہے۔انفاق کے بارے میں آیت آتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتمى (البقرۃ:۱۷۸) میں اقرباء اور یتامیٰ کا ذکر مقدم ہے۔اس لئے لفظ فقراء یعنی محتاج میں یتامی شامل ہیں۔مگر چونکہ ان کی حالت زیادہ اہتمام کی محتاج ہے، اس لئے ان کے بارے میں الگ عنوان قائم کیا گیا ہے۔إِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُ بِغَيْرِ حَقَّہ کا یہ مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مال کو بغیر اس کا حق یعنی زکوۃ وصدقہ ادا کئے قبضہ میں رکھتا ہے وہ حریص ہے۔يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ۔اور یہ حرص اس کے لئے بدہضمی پیدا کرے گی اور اس کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ہر شئے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اپنے اندر بھلائی رکھتی ہے۔مگر جو انسان خواہشات کی پیروی میں اسراف سے کام لیتا ہے اور خیر کو منبع شر بناتا ہے وہ نعمت الہی کا ناشکر گزار ہے۔جو جانور کھا پی کر اپنے پیٹ کو