صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 101
صحيح البخاری جلد۳ 1+1 ٢٤ - كتاب الزكاة تجارت کی غرض سے گھوڑے کی قیمت فروخت کا اندازہ کر کے اڑھائی فیصدی کے حساب سے زکوۃ حاصل کردہ منافع پر ہوگی۔عنوان باب ۲۹ میں جو آیت درج کی گئی ہے وہ تجارتی وصنعتی کا روبار کے بارے میں نص صریح ہے کہ ان سے حاصل کردہ منافع قابل زکوۃ ہے۔بَاب ٤٧ : الصَّدَقَةُ عَلَى الْيَتَامَى تیموں کو صدقہ دینا ١٤٦٥: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۱۴۶۵ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ ) کہا : ) ہشام ( دستوائی) نے ہمیں بتایا کہ سیکی (بن أَبِي مَيْمُوْنَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ الى كثير ) سے مروی ہے۔انہوں نے ہلال بن ابی سَمِعَ أَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ میمونہ سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا: ) ہم سے يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عطاء بن یسار نے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ بیان کرتے جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر بیٹھے اور ہم حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔آپ نے فرمایا: میں بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا جن باتوں سے اپنے بعد تمہارے متعلق ڈرتا ہوں، وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ اُن میں سے دنیا کی وہ زیب وزینت بھی ہے جو تم پر أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِ فَسَكَتَ النَّبِيُّ ( چاروں طرف سے ) کھول دی جائے گی۔اس پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيْلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا خیر شر کو بھی لائے گی۔نبی ﷺ خاموش رہے۔اس شخص سے پوچھا تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ أَيْنَ گیا کہ کیا وجہ ہے تم نبی ﷺ سے بات کرتے ہو اور وہ تم سے بات نہیں کرتے۔پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔حضرت ابوسعید کہتے تھے: السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي آپ نے (چہرے سے) پسینہ پونچھا اور فرمایا: یہ الْخَيْرُ بِالشَّرِ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جیسے آپ نے اس کے يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُ إِلَّا آكِلَةَ الْحَضْرَاءِ أَكَلَتْ سوال کو پسند کیا تھا۔آپ نے فرمایا: بات یہ ہے کہ