صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 100
صحيح البخاری جلد۳ ٢٤ - كتاب الزكاة يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ خُتَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ ٹیم بن عراک بن مالک سے ابْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مروی ہے انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔{ اور سلیمان بن حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حب نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: ) وہیب بن خالد حقيمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) خشیم بن عراک بن مالک نے ہمیں بتایا کہ اُن کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی علی وَسَلَّمَ * } قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: مسلمان پر اس صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ۔کے غلام میں صدقہ نہیں اور نہ اس کے گھوڑے میں۔اطرافه: ١٤٦٣- شریح: لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِم فِى فَرَسِهِ وَ غُلَامِهِ صَدَقَةٌ باب ۴۶،۴۵ کے قائم کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ فقہاء کے درمیان گھوڑے اور غلام میں زکوۃ دینے سے متعلق اختلاف ہوا ہے۔جمہور کا یہ مذہب ہے کہ ان میں زکوۃ نہیں خواہ وہ اپنے ذاتی استعمال کے لئے ہوں یا تجارت کے لئے۔کیونکہ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ میں گھوڑا اور غلام اموال زکوۃ سے علی الاطلاق مستقلی کئے گئے ہیں۔مگر امام ابوحنیفہ نے ان میں بھی زکوۃ ضروری قرار دی ہے جبکہ وہ ذریعہ کسب معاش ہوں۔آپ کے نزدیک تجارت کے مال میں زکوۃ کی ادائیگی ثابت ہے۔اس لئے اس حدیث کا مفہوم محدود کرنا ہوگا کہ ایسا گھوڑا یا غلام جو اپنی خدمت کے لئے مخصوص ہو؛ اس میں زکوۃ نہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۱۲ ) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۳۵-۳۶) (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثانية فى معرفة ما تجب فيه الزكاة) امام بخاری ، امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تائید میں معلوم ہوتے ہیں۔دو عنوان جو انہوں نے یکے بعد دیگرے قائم کئے ہیں، ان میں فَرَسِہ اور عبدِہ کو نمایاں کیا ہے اور صَدَقَة کا لفظ زکوۃ کی جگہ اختیار کیا ہے۔یعنی ایسا گھوڑایا غلام جو انسان کی ذاتی خدمت کے لئے ہو، اس میں کسی قسم کا صدقہ واجب نہیں ہوتا سوائے صدقہ فطر کے جو غلام کی وجہ سے مالک پر عائد ہوتا ہے۔البتہ تجارت کی صورت میں زکوۃ ہو گی۔چنانچہ حضرت عمر کے پاس شام کے تاجران اسپ آئے اور انہوں نے زکوۃ پیش کی جو بعد مشورہ قبول کی گئی۔(الهداية، كتاب الزكاة، فصل في الخيل) سنن الدار قطنى، كتاب الزكاة، باب زكاة مال التجارة وسقوطها عن الخيل والرقيق) عماری روایت کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۴۱ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔