صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 98
صحيح البخاری جلد۳ 9A ٢٤ - كتاب الزكاة امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ نَعَمْ اتَّذَنُوا لَهَا آپ نے فرمایا: زمینیوں میں سے کون سی زینب ؟ آپ فَأُذِنَ لَهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ سے کہا گیا: ابن مسعودؓ کی بیوی۔آپ نے فرمایا: اچھا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حَلِيٌّ لِي اتے اجازت دو۔چنانچہ انہیں اجازت دی گئی حضرت زینب نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے آج صدقہ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا فَزَعَمَ ابْنُ کرنے کا حکم دیا تھا۔میرے پاس میرا یہی زیور ہے۔مَسْعُوْدٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہی زیور صدقہ میں دے دوں۔بِهِ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن مسعودؓ نے کہا: وہ اور ان کا بیٹازیادہ حقدار ہیں اُن صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ زَوْجُكَ وَوَلَدُكِ لوگوں سے جن کو میں نے صدقہ دیا۔رسول اللہ علی أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ۔نے فرمایا: ابن مسعودؓ نے درست کہا ہے۔تیرا خاوند اور اطرافه ۳۰٤، ۱۹۵۱، ۲۷۵۸ تیرا بیٹا ان سے زیادہ حق دار ہیں جن کو تو صدقہ دے۔الزَّكَاة عَلى الاقارب : قرآن مجید میں صدقات کی تقسیم سے متعلق بایں الفاظ تصریح ہے: إِنَّمَا تشریح: الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: ۲۰) صدقات تو صرف فقراء اور مساکین کے لئے ہیں اور ان کا رندوں کے لئے جو انتظام زکوۃ پر مقرر ہوں۔نیز ان کے لئے جن کی تالیف قلب ( دلجوئی ) مطلوب ہو۔( یعنی وہ لوگ جن کی ایمانی حالت کمزور ہو اور وہ تعلیم و تربیت اور اصلاح نفس کے محتاج ہوں اور ایسے کفار بھی مراد ہیں جو مصیبت زدہ ہوں۔ان کی امداد و غیرہ کی جائے۔اسلام کے لئے کسی قسم کا لالچ یا رشوت دینا مقصود نہیں بلکہ ہمدردی مخلوق کی صورت ہے ) اور اسی طرح گردنوں (یعنی قیدیوں) کے آزاد کرانے میں اور قرض داروں کی امداد میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کی امداد کے لئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرض واجب ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔إِنَّما حضر کے لئے آتا ہے۔گویا صدقات کی تقسیم آٹھ قسم کے لوگوں میں منحصر کر دی گئی ہے۔جن میں سے ایک قسم محتاجوں کی ہے جیسے معذور، بیتامی اور بیوگان وغیرہ جو اپنے گزارہ کے لئے دوسروں کے دست نگر ہوں اور دوسری قسم مسکینوں کی یعنی جو خوشحال ہونے کے بعد کسی سبب سے بے سروسامان ہو چکے ہوں یا کام کاج نہ کر سکتے ہوں اور کسی پر اپنی بد حالی کا اظہار نہ کریں۔ایک حدیث میں آتا ہے: لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللقْمَةُ واللقَمَتَان وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَان وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنّى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ۔(بخارى، كتاب الزكاة، باب قول الله تعالى لا يسألون الناس إلحافا، روایت نمبر ۱۴۷۹) مسكين وه نہیں ہے جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرے۔ایک دو لقمے اور ایک دو کھجور میں اُس کو دربدر لے جائیں۔بلکہ مسکین وہ ہے جو استامال نہیں پاتا کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور نہ اُس کا حال کسی کو معلوم ہو کہ اس کو صدقہ دے اور نہ وہ اُٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ہو۔