صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 97
صحيح البخاری جلد ۳ ۹۷ ٢٤ - كتاب الزكاة تَابَعَهُ رَوْحٌ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ( عبد الله بن یوسف) کی طرح روح نے بھی اسے وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ مَّالِكِ رَابِحٌ۔ روایت کیا ہے اور یحی بن چکی اور اسماعیل نے مالک سے رابح کی جگہ رایح (یعنی زیادہ نکلنے والا ) نقل کیا۔ اطرافه: ۲۳۱۸، ٢٧٥٢، ٢٧٦٩، ٤٥٥٤، 4555، 5611 ١٤٦٢: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۱۴۶۲: (سعید ) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ( کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: زید زَيْدٌ عَنْ عِيَاضٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي (بن اسلم) نے مجھے بتایا۔ عیاض بن عبداللہ سے مروی سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ ہے کہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (حضرت ابو سعید خدری نے کہا :) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرِ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ رسول الله صلى اله علیه وسم عيد الفني يا عيدا الاضحیٰ یا الفطر میں عیدگاہ کو نکلے۔ نکلے۔ پھر آپ ( نماز پڑھ کر ) مڑے او انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ لوگوں کو وعظ کیا اور آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوْا آپ نے فرمایا: اے لوگو! صدقہ دیا کرو۔ پھر آپ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عورتوں تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ کی جماعت ! تم بھی صدقہ کیا کرو۔ کیونکہ مجھ کو دکھلایا فَقُلْنَ وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ گیا ہے کہ تم دوزخیوں میں زیادہ تعداد میں تھیں ۔ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيْرَ مَا انہوں نے کہا: یہ کس لئے ؟ یا رسول اللہ ! فرمایا: تم رَأَيْتُ مِنْ نَّاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِيْنِ أَذْهَبَ لعنت بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ اے عو عورتوں کی جماعت! میں نے کم عقل اور ناقص لِلبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا دین اشخاص میں تم سے بڑھ کر ہوشیار مرد کی عقل کو مَعْشَرَ النِّسَاءِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ کھونے وال کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر آپ لوٹ آئے إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ جب آپ اپنے گھر پہنچے تو حضرت (عبدالله) ( عبد الله ) بن مسعود مَسْعُوْدٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُوْلَ کی بیوی حضرت زینب آئیں۔ آپ سے اندر آنے اللَّهِ هَذِهِ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقِيلَ کی اجازت لی اور کہا گیا: یا رسول اللہ ! یہ زینب ہے۔