صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 96
صحيح البخاری جلد ۳ ۹۶ ٢٤ - كتاب الزكاة مِنْ نَّخْلٍ وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ تمام باغوں میں اُن کو بیرحاء کا باغ بہت پیارا بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ تھا۔وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس میں جایا کرتے اور وہاں کا صاف ستھرا پانی پیا يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَّاءٍ فِيْهَا طَيِّبِ کرتے تھے۔حضرت انس کہتے تھے: جب یہ آیت قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : أترى تم اس وقت تک نیکی ہرگز حاصل نہیں کر سکتے لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا جب تک کہ اُن چیزوں سے خرچ نہ کرو جن سے تم کو تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) قَامَ أَبُو طَلْحَةَ محبت ہے۔تو حضرت ابوطلحہ اُٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیہ وسلم کے پاس گئے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ مجھے اپنے مالوں میں سے فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالى يَقُوْلُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى وہ بیر خاء بہت ہی پیارا ہے اور یہی اللہ کے لئے تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي صدقہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو میرے لئے نیکی اور ذخیرے کا موجب ہوگا۔اس برَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ فَضَعْهَا يَا لئے یا رسول اللہ ! جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو مناسب رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ قَالَ فَقَالَ سمجھائے ؛ وہاں خرچ کریں۔حضرت انس کہتے تھے: رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَحْ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا۔ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالْ رَابِحٌ وَقَدْ یہ مال تو نفع بخش ہے، یہ مال تو نفع بخش ہے اور سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا میں نے سن لیا ہے جو تم نے کہا اور میں مناسب سمجھتا فِي الْأَقْرَبِيْنَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا ہوں کہ تم اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔حضرت ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میں ایسا ہی کروں رَسُوْلَ اللهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي گا۔چنانچہ حضرت ابوطلحہ نے اسے اپنے قریبیوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ۔