صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 95
صحيح البخاري - جلد۳ ۹۵ ٢٤ - كتاب الزكاة ہے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ گائے بیل کا ذکر ز کوۃ کے ضمن میں وارد ہوا ہے اور یہ جانوران مویشیوں میں شامل ہیں جن کی زکوۃ دینا فرض ہے لیکن ان کے نصاب اور حق واجب کی تعیین کے بارے میں منقولہ روایات ان دونوں ائمہ کے نزدیک مستند نہیں۔ابوحمید ساعدی کا جو حوالہ عنوان باب میں نقل کیا گیا ہے وہ کتاب اٹیل کے آخری باب میں مذکور ہے۔اس روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان مویشیوں پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہے۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحہ ۴۰۷ تا۴۰۹) لَأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ اللَّهَ رَجُلٌ بِبَقَرَةٍ: اس جملہ کے دو طرح معنی کئے گئے ہیں۔فقرہ مَا جَاءَ میں مَا مصدر یہ ہے اور یہ سارا جملہ بلحاظ معنی کے یوں ہے مُجِی رَجُلٍ إِلى اللهِ یعنی اللہ کے پاس آدمی کا آنا جس طرح ہوگا میں تمہیں بتائے دیتا ہوں۔دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ” کو بجائے حرف تاکید کے لا حرف نافیہ قرار دے کر اس فقرہ کو یوں پڑھا گیا ہے: لَا اَغرِ فَنَّ - یعنی میں تم میں ایسا آدمی نہ دیکھوں جس کی یہ حالت ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گائے اُٹھائے آئے اور وہ بائیں بائیں کر رہی ہو۔امام بخاری نے اس جملہ کو تشبیہ قرار دے کر قرآن مجید کی آیت کے حوالہ سے اس سے یہ مراد لی ہے کہ خود اس شخص کی یہ حالت ہوگی کہ وہ عذاب الہی کو دیکھ کر فریاد کر رہا ہوگا۔ساری آیت یوں ہے: حَتَّى إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمُ بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْتَرُونَ (المؤمنون: (۲۵) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب کے ذریعہ پکڑ لیتے ہیں تو اچانک وہ چیخنے چلانے لگتے ہیں۔) وَمَا بِكُمُ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُ فَإِلَيْهِ تَجْتَرُونَ) (النحل : ۵۴) { اور جو بھی تمہارے پاس نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اُسی کی طرف تم زاری کرتے ہوئے جھکتے ) ہو۔بَابِ ٤ ٤ : الزَّكَاةُ عَلَى الْأَقَارِبِ رشتہ داروں کو زکوۃ دینا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ أَجْرَانِ في صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے دو ثواب ہیں۔أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَ {أَجْرُ * } الصَّدَقَةِ۔قرابت ( یعنی صلہ رحمی) کا اجر اور صدقہ { کا اجر ہی} ١٤٦١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۴۶۱: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، ( کہا : ) يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بنِ مالک نے ہمیں بتایا۔اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہ مدینہ میں أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا سب انصار سے زیادہ کھجوروں کے باغ رکھتے تھے اور لفظ " أجر» فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۴۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔