صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 94 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 94

صحيح البخاری جلد۳ ۹۴ ٢٤ - كتاب الزكاة وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ قیامت کے دن وہ جانور ایسے ہی موٹے تازے لائے بِقُرُونِهَا كُلَّمَا جَازَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ جائیں گے جیسے کہ وہ ہیں۔اپنے پاؤں سے اس کو چلیں گے اور سینگوں سے اُسے ماریں گے۔جب اس کے اوپر عَلَيْهِ أَوْلَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ۔سے آخری جانور گزر جائے گا تو اُن میں سے پہلے کو دوبارہ اُس کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔(ایسا ہی ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔رَوَاهُ بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ یہی حدیث بکیر نے (ابن عبداللہ ) ابوصالح سے، أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ٦٦٣٨۔تشریح: ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔زَكَاةُ الْبَقَرِ : جیسے لفظ الغنم میں بکری، بھیڑ، دنبہ شامل ہیں ایسا ہی البقر میں گائے، بیل، بھینس اور بھینسا شامل ہیں۔بعض روایتوں میں ان مویشیوں کا نصاب مذکور ہے۔مگر وہ مستند نہیں سمجھی گئیں۔ان روایتوں میں سے ایک روایت حضرت معاذ سے منقول ہے جو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے: أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ۔۔۔یعنی تمیں راس گائے سے کم ہوں تو معاف اور تمہیں راس میں ایک سالہ بچھڑا اور چالیس راُس سے اُنسٹھ تک دوسالہ اور ساٹھ سے اُنہتر تک دو بچھڑے یک سالہ اور ستر سے ۷۹ تک ایک بچھڑا ایک سالہ و ایک بچھڑا دوسالہ ۸۰ سے ۸۹ تک دو بچھڑے دو سالہ۔اور نوے سے ننانوے تک تین بچھڑے ایک سالہ اور سوپر دو بچھڑے ایک سالہ دایک بچھڑا دو سالہ۔اور اس سے اوپر ہوں تو ہر تمیں راس پر یک سالہ اور ہر چالیس راس پر ایک بچھڑا دو سالہ دیا جائے۔(ابو داؤد، کتاب الزكاة، باب زكاة السائمة) (مسند احمد بن حنبل، جزء ۵ صفحه ۲۴۰) حضرت معاذ کی مشار الیہا روایت امام بخاری و امام مسلم رحمہ اللہ علیہما کے نزدیک مستند نہیں۔مگر اصحاب سنن نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۴۰۸) حضرت معاذ سے متعلق یہ ثابت ہے کہ گائے بیل میں حق زکوۃ کی نسبت جب اُن سے اہل یمن نے دریافت کیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر کے جواب دینے کے لئے کہا۔مگر جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو آنحضرت یہ فوت ہو چکے تھے۔(مؤطا امام مالک، کتاب الزکاة، باب ماجاء في صدقة البقر) اس لئے اکثر فقہاء نے اس مسئلہ میں قیاس سے کام لیا ہے۔امام بخاری نے حضرت ابوذر کی ہی روایت اس باب میں نقل کی ہے۔اس روایت سے اور حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے جو امام مسلم پہلو نے نقل کی ل (مسلم، كتاب الزكاة، باب اثم مانع الزكاة)