صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 93 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 93

صحيح البخاری جلد۳ تشریح: ۹۳ ٢٤ - كتاب الزكاة لَيْسَ فِيْمَا دُونَ خَمْس ذَوُدٍ صَدَقَةً: اس باب کے قائم کرنے کی غرض سے متعلق شارحین میں اختلاف ہوا ہے۔جبکہ یہ مسلہ متفق علیہ ہے کہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔اس کا ذکر باب نمبر ۳۲ و ۳۸ کے ضمن میں گزر چکا ہے۔اس بارے میں ان کی تو جیہیں دور کی معلوم ہوتی ہیں۔صرف حدود شریعت کا بیان کرنا مقصود بالذات ہے۔باب نمبر ۳۲ میں چاندی کا نصاب اور باب نمبر ۳۸ میں بھیٹر بکریوں کا نصاب مذکور ہے اور اس باب میں اونٹوں کے نصاب کا ذکر ہے اور اونٹوں پر قیاس کر کے گائے بیل کے نصاب کا ذکر اگلے باب میں کیا گیا ہے۔بَابِ ٤٣ : زَكَاةُ الْبَقَرِ گائے بیل کی زکوۃ وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابوحمید ساعدی) کہتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا: میں : عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ اللَّهَ رَجُلٌ تمہیں بتائے دیتا ہوں ؛ اللہ کے پاس اس شخص کا آنا کیسا ہو گا جو گائے اُٹھائے ہوئے آئے گا۔وہ بائیں بائیں کر بَقَرَةٍ لَهَا حُوَارٌ وَيُقَالُ جُؤَارٌ رہی ہوگی اور خوار کی جگہ جواز بھی کہا جاتا ہے۔تَجْتَرُونَ * (النحل:٥٤) تَرْفَعُوْنَ يَجْأَرَونَ (المؤمنون:۶۵) کے معنی ہیں وہ گھبراہٹ میں أَصْوَاتَكُمْ كَمَا تَجْأَرُ الْبَقَرَةُ۔اور پناہ مانگنے کے لئے دردانگیز صورت میں اپنی آوازیں بلند کریں گے جس طرح گائے بائیں بائیں کرتی ہے۔١٤٦٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۱۴۶۰ عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ ) کہا :) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) اعمش الْمَعْرُوْرِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍ رَضِيَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معرور بن سوید سے معرور نے اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ وَالَّذِي حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ أَوْ کہا: میں آپ کے (یعنی نبی ﷺ کے پاس پہنچا۔آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے یا كَمَا حَلَفَ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُوْنُ لَهُ إِبل فرمایا: اس کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود ہیں یا ایسی ہی أَوْ بَقَرٌ أَوْ غَنَمٌ لَا يُؤَدِّيْ حَقَّهَا إِلَّا أُتِيَ کچھ آپ نے قسم کھائی ( اور فرمایا: ) جس کے پاس اونٹ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ یا گائے بیل یا بکریاں ہوں؛ وہ اُن کی زکوۃ نہ دے تو ضرور بعض نسخوں میں اس جگہ " يَجْأَرُونَ يَرْفَعُونَ" کے الفاظ ہیں۔( شرح صحیح البخاری للکرمانی ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔