صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 92
صحيح البخاری جلد ۳ ۹۲ ٢٤ - كتاب الزكاة ضرورت ہے؟ ایسے جانوروں کے لینے سے مالک کا نقصان ہوگا ۔ زکوۃ میں عیب دار چیز نہ لی جائے اور نہ بہترین مال بین بین کی راہ اختیار کی جائے تا کہ نہ بیت المال کو نقصان ہو اور نہ مالک کو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے احکام شریعت ۔ احکام شریعت کے نفاذ میں میانہ روی کو پسند فرمایا ہے اور آیت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۳) یعنی تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے ( خدا کے لئے ) خرچ نہ کرو۔ اس آیت کے پیش نظر ان افراد کے لئے بھی راستہ کھلا ہے جو اخلاص میں اس اعلیٰ پائے کے ہیں کہ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی محبوب ترین اشیاء کا نذرانہ پیش نہ کر دیں ؟ انہیں چین نہیں آتا اور ان اعلیٰ قسم کی قربانیوں میں آزادی دی گئی ہے۔ مگر جن امور میں احکام شریعت کی پابندی کا تعلق ہے وہاں احتیاط سے کام لیتے ہوئے اجرائے احکام میں سہولت کا پہلو مد نظر رکھا گیا ہے ۔ مبادا کمز ور لوگ ٹھوکر کھائیں ۔ بَاب ٤٢ : لَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسٍ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے 1459 : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۴۵۹: عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ سے بیان کیا ، ( کہا: ) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ نے محمد بن عبدالرحمن بن ابی مازنی سے صعصعه باز الْمَازِنِي عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے الْخُدْرِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِّنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وسق سے کم کھجور میں صدقہ زکوۃ نہیں اور پانچ وَلَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسٍ أَوَاقٍ مِّنَ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ زکوۃ نہیں اور پانچ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيْمَا دُونَ مہار اونٹ سے کم میں صدقہ زکوۃ نہیں ۔ خَمْسٍ ذَوْدٍ مِّنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ۔ اطرافه: ١٤٠٥، 1447، 1484۔