صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 91 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 91

صحيح البخاری جلد ۳ ۹۱ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ١ ٤ : لَا تُؤْخَذُ كَرَائِمُ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّدَقَةِ صدقہ (زکوۃ ) میں لوگوں کے چیدہ مال نہ لئے جائیں ١٤٥٨ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ۱۴۵۸ : امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا، ( کہا :) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ يزيد بن زُریع نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) روح الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بن قاسم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن امیہ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِي عَنْ أَبِي ہے، اسماعیل نے کی بن عبداللہ بن صیفی سے بچی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے ابو معبد (نافذ ) سے، ابو معبد نے حضرت ابن عباس أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ بَعَثَ مُعَاذَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْيَمَنِ وَسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن پر عامل قَالَ إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابِ مقرر کر کے بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب لوگوں کے پاس فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ جارہے ہو اس لئے چاہیے کہ اللہ تعالی کی عبادت پہلی فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَد بات ہو جس کی طرف تم اُن کو بلاؤ۔ جب وہ انا کو قبول کر لیں تو پھر اُن کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن وہ اللہ تعالیٰ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کے لئے پانچ نمازیں دن رات میں مقرر کی ہیں۔ يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا الصَّلَاةَ جب وہ نمازیں ادا کریں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً نے ان پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو اُن کے تُؤْخَذُ * } مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى مالوں سے لی جائے گی چی} اور ان کے محتاجوں کو فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ لوٹائی جائے گی ۔ جب وہ اُس کو مان لیں تو اُن سے لو وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ۔ اور لوگوں کے عمدہ مالوں سے بچنا۔ اطرافه: ۱۳۹۵ ، ١٤٩٦ ، ٢٤٤٨ ، ٤٣٤٧، ۷۳۷۱، ۷۳۷۲۔ نے تشريح : لَا تُؤْخَذُ كَرَائِمُ أَمْوَالِ النَّاسِ : آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم ے وصولی زکوۃ میں مالک کے حقوق کی نگہداشت رکھی ہے۔ مثلاً اگر عمدہ دودھ دینے والا جانور ہو یا ایک ہی نر جانور؛ جس سے نہ نسل کشی کی لفظ تُؤْخَذُ فتح الباري الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۴۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔