صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 91
صحيح البخاری جلد ۳ ۹۱ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ٤١ : لَا تُؤْخَذُ كَرَائِمُ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّدَقَةِ صدقہ (زکوۃ ) میں لوگوں کے چیدہ مال نہ لئے جائیں ١٤٥٨: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ :۱۴۵۸ امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ يزيد بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) روح الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَاعِيْلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بن قاسم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل بن امیہ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِي عَنْ أَبِي ہے، اسماعیل نے یحی بن عبد اللہ بن صیفی سے سجی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے ابو معبد ( نافذ ) سے،ابومعبد نے حضرت ابن عباس أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ بَعَثَ مُعَاذَا اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْيَمَنِ وَسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن پر عامل رضي قَالَ إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ مقرر کر کے بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب لوگوں کے پاس فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ جارہے ہو اس لئے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پہلی فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ بات ہو جس کی طرف تم اُن کو بلاؤ۔جب وہ اللہ تعالیٰ کو قبول کرلیں تو پھر اُن کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے پانچ نمازیں دن رات میں مقرر کی ہیں۔جب وہ نمازیں ادا کریں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو اُن کے { تُؤْخَذُ * } مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى مالوں سے {لی جائے گی ہم اور ان کے محتاجوں کو فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوْا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ لوٹائی جائے گی۔جب وہ اُس کو مان لیں تو اُن سے لو فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا الصَّلَاةَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ۔اور لوگوں کے عمدہ مالوں سے بچنا۔اطرافه ١٣٩٥، ١٤٩٦، ٢٤٤٨، ٤٣٤٧، ۷۳۷۱، ۷۳۷۲۔تشریح لَا تُؤْخَذُ كَرَائِمُ اَمْوَالِ النَّاسِ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصولی زکوۃ میں مالک کے حقوق کی نگہداشت رکھی ہے۔مثلاً اگر عمدہ دودھ دینے والا جانور ہو یا ایک ہی نر جانور ؛ جس سے نسل کشی کی لفظ "توحد فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۲۰۶ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔