صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 90 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 90

صحيح البخاری جلد۳ 9+ باب ٤٠ : أَخْذُ الْعَنَاقِ فِي الصَّدَقَةِ بکری کا بچہ صدقہ (زکوۃ ) میں لینا ٢٤ - كتاب الزكاة ١٤٥٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۱۴۵۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔وَقَالَ اللَّيْثُ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔اور حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَن ليث بن سعد ) نے بھی کہا: عبد الرحمن بن خالد نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود سے روایت اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت ابوبکر رضي ا اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُوْنِي عَنَاقًا كَانُوا رضی اللہ عنہ کہتے تھے اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے مجھے يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان کے نہ دینے پر ان سے وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا۔اطرافه ١٤٠٠، ۶۹۲٥، ۷۲۸۵ ضرور مقابلہ کروں گا۔١٤٥٧ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۱۴۵۷: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ شَرَحَ لئے تھا کہ میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْقِتَالِ رضی اللہ عنہ کے سینے کو مقابلے کے لیے کھول دیا تھا اللہ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ۔اطرافه: ۱۳۹۹، ٦٩٢٤، ٧٢٨٤۔اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔تشریح: اَخُذُ الْعَنَاقِ فِى الصَّدَقَةِ : حضرت عمر نے بکری کا بچہ لینے سے انکار کیا۔اس وجہ سے فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا وہ لیا جائے یا نہ۔امام مالک تو مطلق قبول کرنے کے حق میں ہیں۔مگر امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر مائیں نصاب صدقہ میں ہوں تو پلوٹھا لینا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔عنوانِ باب اور مندرجہ آیت سے ظاہر ہے کہ امام بخاری مطلق جواز کے حق میں ہیں۔