صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 89 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 89

صحيح البخاری جلد ۳ ۸۹ ٢٤ - كتاب الزكاة أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس رہ نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ الَّتِي ان کو بتایا۔حضرت ابو بکر نے انہیں وہ (صدقہ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زکوة) لکھ کر دیا جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرمَةٌ وَلَا علیہ وسلم کو دیا تھا ( اور اس میں یہ بھی تھا ) اس صدقہ میں ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ بوڑھی اونٹنی یا بیکری ) زکوۃ میں نہ نکالی جائے اور نہ عیب دار اور نہ بکرا؛ سوائے اس کے کہ صدقہ وصول الْمُصَدِّقُ۔کرنے والا چاہے ( تو لے سکتا ہے۔) اطرافه : ١٤٤٨، ۱٤٥٠ ، ۱٤٥۱، ۱٤٥۳، ۱٤٥٤، ٢٤۸۷، ۳۱۰٦، ٥۸۷۸، ٦٩٥٥۔محمد تشریح : لَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ : روایت نمبر ۱۳۵۵ کے آخر میں جو استثناء حرف الا سے کیا گیا ہے، اس کا تعلق بعض فقہاء کے نزدیک ماقبل مذکورہ اشیاء کے ساتھ ہے۔پہلی صورت میں المُصَدِق کی دال مشد د ہوگی۔بمعنے صدقہ دینے والا یعنی اگر مالک بکرا دینے میں کوئی خاص نقصان نہیں دیکھتا تو وہ اسے بطور ز کوۃ دے سکتا ہے۔دوسری صورت میں یہ لفظ الْمُصْدِق پڑھا جائے گا بمعنی صدقہ وصول کرنے والا۔یعنی اگر محصل دیکھتا ہے کہ کسی کے پاس بوڑھے یا عیب دار جانور ہی ہیں تو پھر اسے قبول کرنے کا اختیار ہے۔یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔ان کا یہ قول ہے: وَلَا تُؤْخَذْ ذَاتَ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ وَلَا هَرِمَةً إِلَّا أَنْ يُرَى الْمُصْدِقَ أَنَّ ذَلِكَ أَفْضَلُ لِلْمَسَاكِينِ فَيَأْخُذُهُ عَلَى النَّطْرِ - فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۰۴-۴۰۵) ترجمہ: اور نہ ایسا جانو ر لیا جائے گا جس کی آنکھ وغیرہ میں نقص ہو اور نہ بکرا اور نہ بوڑھی سوائے اس کے کہ صدقہ وصول کرنے والا سمجھے کہ یہ مساکین کے لئے بہتر ہے تو وہ اپنی رائے کے مطابق اس شرط پر لے لے کہ اگر منظور نہ ہوا تو واپس ہوگا۔بعض مالکیوں کے نزدیک یہ جائز نہیں بلکہ صدقہ دینے والے کا فرض ہے کہ وہ اچھا جانور خرید کر دے۔(فتح الباری جز ۳ صفحه ۴۰۵) خود امام مالک کا وہی مذہب ہے جو امام شافعی کا ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک محصل کا اختیار نہیں کہ وہ ناقص جانور قبول کرے۔کیونکہ ناقص نہ لئے جانے کی حدیث میں تصریح ہے۔عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاری؛ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تائید میں ہیں۔نہ لینے کو نمایاں کیا گیا ہے اور استثناء مقدر ہے۔جبکہ حدیث کے الفاظ میں مخاطب زکوۃ دینے والا ہے۔اس فتوی میں تقویٰ کا پہلو مد نظر ہے اور دوسرے فتویٰ میں سہولت۔