صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 89
صحيح البخاری جلد ۳ ۸۹ ٢٤ - كتاب الزكاة أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس نے نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ الَّتِي ان کو بتایا۔ حضرت ابوبکر نے انہیں وہ (صدقہ رضي عنه ۔ أَمَرَ اللهُ رَسُوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زکوة) لکھ کر دیا جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا علیہ وسلم کو دیا تھا ( اور اس میں یہ بھی تھا ) اس صدقہ میں ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ بوڑھی (اونٹنی یا بکری) زکوۃ میں نہ لوۃ میں نہ نکالی جائے اور الْمُصَدِّقُ ۔ نہ عیب دار اور نہ بکرا ؛ سوائے اس کے کہ صدقہ وصول کرنے والا چاہے ( تو لے سکتا ہے۔) اطرافه: ١٤٤٨ ، 1450 ، 1451 ، 1453 ، ١٤٥٤، ٢٤٨٧، ٣١٠٦، ٥٨٧٨، 6955۔ تشريح : لَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ : روایت نبر ۱۳۵ کے آخر میں جو استثناء حرف الا سے کیا گیا ہے، اس کا تعلق بعض فقہاء کے نزدیک ما قبل مذکورہ اشیاء کے ساتھ ہے۔ پہلی صورت میں الْمُصَدِّق کی دال مشد دہوگی۔ بمعنے صدقہ دینے والا یعنی اگر مالک بکرا دینے میں کوئی خاص نقصان نہیں دیکھتا تو وہ اسے بطور زکوۃ دے سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ لفظ الْمُصْدِق پڑھا جائے گا بمعنی صدقہ وصول کرنے والا ۔ یعنی اگر محصل دیکھتا ہے کہ کسی کے پاس بوڑھے یا عیب دار جانور ہی ہیں تو پھر اسے قبول کرنے کا اختیار ہے۔ یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔ ان کا یہ قول ہے : وَلَا تُؤْخَذُ ذَاتَ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ وَلَا هَرِمَةٌ إِلَّا أَنْ يَرَى الْمُصْدِقُ أَنَّ ذَلِكَ أَفْضَلُ لِلْمَسَاكِينِ فَيَأْخُذُهُ عَلَى النَّظُرِ - (فح البارى جز ۳۶ صفحه ۴۰۴-۴۰۵) ترجمہ: اور نہ ایسا جانور لیا جائے گا جس کی آنکھ وغیرہ میں نقص ہو اور نہ بکرا اور نہ بوڑھی سوائے اس کے کہ صدقہ وصول کرنے والا سمجھے کہ یہ مساکین کے لئے بہتر ہے تو وہ اپنی رائے کے مطابق اس شرط پر لے لے کہ اگر منظور نہ ہوا تو واپس ہوگا۔ بعض مالکیوں کے نزدیک یہ جائز نہیں بلکہ صدقہ دینے والے کا فرض ہے کہ وہ اچھا جانور خرید کر دے ۔ ( فتح الباری جزء۳ صفحه ۴۰۵) خود امام مالک کا وہی مذہب ہے جو امام شافعی کا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک محصل کا اختیار نہیں کہ وہ ناقص جانور قبول کرے۔ کیونکہ ناقص نہ لئے جانے کی حدیث میں تصریح ہے۔ عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاری؟ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تائید میں ہیں۔ نہ لینے کو نمایاں کیا گیا ہے اور استثناء مقدر ہے۔ جبکہ حدیث کے الفاظ میں مخاطب زکوۃ دینے والا ہے۔ اس فتوی میں تقویٰ کا پہلو مد نظر ہے اور دوسرے فتوی میں سہولت ۔