صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 88
صحيح البخاری جلد ۳ ۸۸ ٢٤ - كتاب الزكاة الْعُشْرِ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِيْنَ وَمِائَةً ایک سو نوے درہم ہی ( چاندی ) ہو تو اس میں صدقہ فَلَيْسَ فِيْهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ۔ زکوہ نہیں ؛ سوائے اس کے کہ اس کا مالک خود چاہے۔ اطرافه: ١٤٤٨، ١٤٥٠ ، ١٤٥١، ١٤٥٣، ١٤٥٥، ٢٤٨٧، ٣١٠٦، ٥٨٧٨، ٦٩٥٥۔ تشريح : الصَّدَقَةُ مِنَ الإِبِلِ : باب نمبر ۳۲ کی تشریح میں روایت نمبر۱۳۵۲ کے دوسرے حصہ کی تشریح گزر چکی ہے ۔ پہلے ۔ ہے ۔ پہلے حصہ میں یہ ذکر ہے کہ پار یہ ذکر ہے کہ پانچ اونٹوں سے پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں ۔ لیکن پانچ سے نو مہار (اونٹ) پر ایک بکری ۔ اور دس سے چودہ مہار تک دو بکریاں۔ اور پندرہ سے انیس مہار تک تین بکریاں۔ اور بیس سے چوبیس تک چار بکریاں۔ گویا چوبیس مہار اونٹ ہوں تو ہر پانچ اونٹ کے حساب سے ایک ایک بکری زکوۃ ہوگی اور پچیس سے پینتیس مہار اونٹ ہوں تو پھر بجائے بکری کے ایک اونٹنی یک سالہ چھتیس سے لے کر پینتالیس مہار اونٹ پر ایک اونٹنی دو سالہ - چھیالیس سے لے کر ساٹھ مہار اونٹ پر ایک اونٹنی سہ سالہ - اکسٹھ سے لے کر پچھتر مہار اونٹ پر ایک اونٹنی چہار سالہ - ۷۶ سے لے کر ۹۰ -۶ مہار اونٹ ، پر پر دو دو اونٹنیاں اونٹنیاں د دو سالہ - ۹۱ سے لے کر ۱۲۰ مہار اونٹ پر دو اونٹنیاں سہ سالہ۔ اور اگر ۱۲۰ سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس مہار اونٹوں پر ایک اونٹنی دو سالہ اور ہے اور ہر پچاس مہار پر ایک اونٹنی سہ سالہ- و علی هذ القیاس۔ یہاں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ ابوبکر بن عمرو بن حزم کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا جو پروانہ لکھا، اُس میں یہ الفاظ ہیں : إِذَا زَادَتِ الإِبِلُ عَلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ اسْتُؤْنِفَتِ الْفَرِيضَةُ۔ (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثالثة، الفصل الثاني في نصاب الإبل، المسئلة الأولى) یعنی جب ۱۲۰ اونٹ سے مال بڑھ جائے تو پھر حق واجب کا حساب نئے سرے سے ہوگا۔ یعنی ایک سو بیس پر سہ سالہ دو اونٹنیاں اور پانچ پر ایک بکری اور جب ایک سو تھیں ہو جائیں تو سہ سالہ دو اونٹنیاں اور دو بکریاں ۔ وعلی ھذا القیاس۔ ایک سو پچاس پر سہ سالہ دو اونٹنیاں اور ایک سالہ ایک اونٹنی ۔ یہ مذہب فقہائے کوفہ یعنی امام ابو حنیفہ و ثوری وغیرہ کا ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک روایت نمبر ۱۴۵۴ زیادہ صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے بداية المجتهد، کتاب الزكاة، الجملة الثالثة، الفصل الثاني في نصاب الإبل) امام بخاری جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔ چاندی سے متعلق نصاب کے لئے دیکھئے تشریح باب ۳۲۔ باب ۳۹ لَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِ مَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَ لَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ صدقہ میں بوڑھی نہ لی جائے اور نہ عیب دار اور نہ بکر الیکن صدقہ وصول کرنے والا چاہے تو لے سکتا ہے ١٤٥٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۴۵۵: محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ أَنَّ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: