صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 86
صحيح البخاری جلد ۳ ۸۶ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ۳۸ : زَكَاةُ الْغَنَمِ بکریوں کی زکوة ١٤٥٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۴۵۴: محمد بن عبداللہ بن مثنی انصاری نے ہم سے ابْنِ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے مجھ سے أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ بیان کیا کہ حضرت انس نے انہیں بتایا۔ حضرت ابو بکر اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا رضی اللہ عنہ نے جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا تو یہ وَجَهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پروانہ لکھ کر دیا:۔ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن رحیم ہے هَذِهِ فَرِيْضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ یہ وہ فریضہ صدقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نے مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا اور جس کا حکم الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا رَسُوْلَهُ الله نے اپنے رسول کو دیا ہے۔ اس لئے مسلمانوں فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَی میں سے جس سے یہ زکوۃ نصاب کے مطابق مانگی وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا جائے؟ چاہیے کہ وہ اسے دے اور جس سے نصاب کے علاوہ مانگی جائے تو وہ نہ دے۔ چوبیس اونٹ یا ان يُعْطِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِيْنَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا سے کم ہوں تو ہر پانچ اونٹوں پر بکریوں میں سے ایک دُوْنَهَا مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ بکری ( زکوۃ ہوگی۔) اور جب پچیس سے پینتیس فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى تک اونٹ پہنچ جائیں تو ان میں ایک برس کی اونٹنی خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيْهَا بِنْتُ مَخَاضٍ اور جب چھتیس سے پینتالیس تک پہنچ جائیں تو ان أُنْثَى فَإِذَا بَلَغَتْ سِرًّا وَّثَلَاثِينَ إِلَى میں دو برس کی اونٹنی اور جب چھیالیس سے ساٹھ تک خَمْسٍ وَأَرْبَعِيْنَ فَفِيْهَا بِنْتُ لَبُوْنٍ أُنْثَى پہنچ جائیں تو ان میں تین برس کی اونٹنی جو اونٹ سے فَإِذَا بَلَغَتْ سِرًّا وَأَرْبَعِيْنَ إِلَى سِتِّينَ قابل جفت ہو اور اگر اکسٹھ سے پچھتر تک پہنچ جائیں تو