صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 83 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 83

ری جلد ۲ ۸۳ ١٠ - كتاب الأذان يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ہو کر مڑے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر جب میں نے فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ تمہیں حکم دیا تھا تو تمہیں اپنی جگہ ٹھہرا رہنے سے کس أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّی بات نے روکا؟ حضرت ابوبکر نے کہا: ابو قحافہ کے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ بیٹے کو شایاں نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي رَأَيْتُكُمْ کے آگے کھڑا ہوکر نماز پڑھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ أَكْثَرْتُمُ التَصْفِيْقَ مَنْ رَابَهُ شَيْءٍ فِي عليه وسلم نے (لوگوں سے ) فرمایا: کس لئے تم نے صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْفِتَ بہت تالیاں بجا ئیں؟ جس شخص کو اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے تو چاہیے کہ وہ سُبْحَانَ اللهِ کہے۔کیونکہ جب وہ سُبحَانَ اللهِ کہے گا تو اس کی طرف إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ۔توجہ کی جائے گی۔تالی بجانا تو عورتوں کے لئے ہے۔اطرافه: ۱۲۰۱، ۱۲۰۴، ۱۲۱۸ ، ۱۲۳٤ ، ۲۶۹۰، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰، لله تشریح: مَنْ دَخَلَ لِيَومَ النَّاسَ فَجَاءَ الْإِمَامُ الْأَوَّلُ : امام بخاری نے عنوان باب من هَمَنْ اور دخل کے الفاظ اختیار کر کے ایک اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور اپنی رائے ظاہر کی ہے۔فقہاء نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر نائب امام مقتدیوں کو ایک دو رکعت پڑھا چکا ہو اور اصل امام آ کر آگے کھڑا ہو تو کیا مقتدی اس کے ساتھ پوری نماز پڑھیں گے؟ اتباع امامت کا تقاضا تو یہی ہے۔مگر مسئلہ معنونہ اس حالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ نائب امام نے نماز بھی شروع ہی کی ہو۔یہی مفہوم ہے جملہ مَنْ دَخَلَ لِيَؤُمُ النَّاسَ کا۔فَتَأَخَّرَ الْأَوَّلُ أَو لَمْ يَتَأَخَّرُ : دونوں مسئلے واقعہ مذکور سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے نماز جاری رکھنے کے لئے فرمایا۔یعنی آپ نے یہ جائز قرار دیا۔مگر وہ شرمائے اور پیچھے ہٹ گئے اور آپ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔آپ نے اسے بھی جائز قرار دیا۔اَتُصَلّى لِلنَّاسِ : امام کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا امام نہیں ہو سکتا۔جمہور کے نزدیک یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔حضرت بلال کا حضرت ابو بکر سے نماز پڑھانے کی درخواست کرنا اور ان کا قبول کرنا بلا وجہ نہیں۔امام احمد بن حنبل، ابوداؤد اور ابن حبان نے بروایت حماد پر نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وقت حضرت بلال سے فرما گئے تھے کہ اگر ابو داؤد كتاب الصلاة باب التصفيق في الصلاة ) (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار۔حدیث ابی مالک سهل بن سعد الساعدى۔جلد ۵ صفحه ۳۳۲) (صحیح ابن حبان۔كتاب الصلاة۔باب ما يكره للمصلي وما لا يكره۔ذكر البيان بان بلالا قدم ابابكر ليصلى بهم هذه الصلاة۔بامر۔جزء ۶ صفحه ۳۹۔روایت نمبر (۲۲۶)