صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 81
ری جلد ۲ AL ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ کو دیکھا تو پیچھے ہٹے۔اس پر آپ نے انہیں اشارہ کیا إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ کہ اپنی جگہ ہی رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو بکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔وَالنَّاسُ يُصَلُوْنَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ۔حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے۔اطرافه ١٩٨، ٦٦٤ ، ٦٦٥ ، ٦٧٩ ، ۷۱۲،٦٨٧، ۷۱۳، ۷۱۶، ۲۰۸۸، ۳۰۹۹ ۷۳۰۳ ،٣٣٨٤ ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤ تشریح : مَنْ قَامَ إِلَى جَنْبِ الْإِمَامِ لِلعلة : روایت نمبر ۱۳ کی تشریح میں بتایا جاچکا ہے کہ حضرت ابو بکر تا با بی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت ابوبکر آپ کے امام نہیں بنیں گے۔( روایت نمبر ۶۸۵،۶۸۴) اس لئے آپ بائیں طرف بیٹھ گئے۔علاوہ ازیں چونکہ بائیں جانب امام کے لئے مخصوص ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی در حقیقت اپنی زندگی کے آخری لمحات تک امام تھے۔آپ نے وہی جگہ اختیار فرمائی جو امام کے لئے مخصوص تھی۔جس مسئلہ کا یہاں تعلق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ مقتدی امام کے پہلو میں کسی مجبوری کی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔مثلا یہ کہ پیچھے جگہ نہ ہو اور ادھر ادھر ہونے سے نمازیوں کی توجہ بنتی ہو۔یا بطور محافظ امام کے پہلو میں کھڑا ہونا پڑے۔روایت نمبر ۶۸۳ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں یا دا ئیں بیٹھنے کا ذکر نہیں۔صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔لیکن روایت نمبر ۶۶۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھنے کا ذکر ہے۔بَاب ٤٨ : مَنْ دَخَلَ لِيَؤُمَّ النَّاسَ فَجَاءَ الْإِمَامُ الْأَوَّلُ فَتَأَخَّرَ الْأَوَّلُ أَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ جَازَتْ صَلَاتُهُ جو شخص لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کر دے اور امام اول آجائے تو یہ امام ہے یا نہ ہٹے اس کی نماز جائز ہوگی فِيْهِ عَائِشَةُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ اس بارہ میں حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔٦٨٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۸۴ عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا،