صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 80 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 80

صحیح البخاري - جلد ٢ ۸۰ ١٠ - كتاب الأذان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی سب سے زیادہ قابل ہیں۔اس لئے ساتھ ہی دوسری طرف اشارہ سے اپنی رائے کا بھی اظہار فرما دیا۔اگر اس وقت کوئی اور شخص امام ہو جاتا تب بھی لوگ آپ کی خاموشی سے یہی استدلال کرتے کہ خلافت کا بھی وہی شخص اہل ہے جس نے آپ کی جگہ نماز پڑھاتی ہے۔غرض امامت کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شخص مقرر کیا جائے جو علم و عمل اور تقوی وطہارت میں افضل ہو۔مذکورہ بالا پانچ روایتیں ایک دوسرے کے مضمون کی تعمیل کرنے کے لئے لائی گئی ہیں۔مثلاً پہلی روایت میں حضرت عائشہ کی حضرت عمر کے امام بنائے جانے کی تجویز اور دوسری میں حضرت حفصہ کے مشورہ دینے کا ذکر ہے۔تیسری میں آپ کا پردہ اٹھا کر دیکھنے کا اور یہ اس دن کا واقعہ ہے جس دن کہ آپ فوت ہوئے۔چوتھی میں یہ ہے کہ یہ پردہ اٹھانے کا واقعہ اُس دن کے بعد کا ہے جس میں آپ دو آدمیوں کا سہارا لیتے ہوئے تشریف لائے اور نماز باجماعت میں شریک ہوئے اور جس کے بعد تین دن تک آپ باہر تشریف فرما نہیں ہوئے۔بَاب ٤٧ : مَنْ قَامَ إِلَى جَنْبِ الْإِمَامِ لِعِلَّةٍ جو امام کے پہلو میں کسی وجہ سے کھڑا ہو ٦٨٣: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى :۶۸۳ زکریا بن سکی نے ہم سے بیان کیا ، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ ابن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام بن عروہ نے ابْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ أَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں۔اس لئے وہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔عروہ کہتے تھے فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں کچھ نَفْسِهِ خِفَّةٌ فَخَرَجَ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُ تخفیف محسوس کی تو آپ باہر تشریف لائے۔کیا النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر آگے کھڑے ہو کر لوگوں إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ کو نماز پڑھا رہے ہیں۔جب حضرت ابوبکر نے آپ