صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 79
ری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ عَنِ طرح بیان کی اور عقیل اور معمر نے بھی زہری سے الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنِ النَّبِي بروایت حمزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا۔تشریح : أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ : شارع السلم علیہ الصلوة والسلام کے مذکورہ بالا انتخاب کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کے انتخاب کو دیکھو کہ ان دونوں کے درمیان بعد المشرقین ہے۔ان کے امام آج کل وہی ہستیاں جن کے نام کھڑ کنے، قل اعوذ یے اور ملاں ملوٹے اور جمعرات کی گوگیاں رکھے جاتے ہیں۔ان کی ساری فضیلت ان ناموں کے نیچے اوندھی پڑی ہے۔مسجدوں کی ویرانی اور مسلمانوں کی تباہی کا سارا سبب خودان کا یہ انتخاب ہے۔امام در حقیقت جماعت کا دل و دماغ ہوتا ہے۔إِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّه ( بخاری کتاب الایمان باب ۳۹ روایت نمبر ۵۲) امامت کے ساتھ ہماری نمازوں کی صحت اور ہماری روحانی تندرستی وابستہ ہے۔اس لئے شریعت اسلامیہ نے اس کے انتخاب کو بھی رکن اول قرار دیا ہے۔فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ : عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیاں حضرت یوسف علیہ السلام سے وہ بات چاہتی تھیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء اور حضرت یوسف علیہ السلام کی مرضی کے خلاف تھی۔اس نازک گھڑی میں بھی یہی کیفیت تھی۔حضرت ابو بکر کے سوا کسی اور کوامام بنانا اللہ تعالی کی مشیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کے خلاف تھا۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرفان کے اس انتہائی مقام پر تھے۔جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کا ارادہ متحد ہو جاتا ہے۔بندہ ارادہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے ارادہ سے موافق ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بات کا ارادہ کرتا ہے اور اس کا بندہ اس کے ارادہ کے ساتھ موافقت کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس کا ذکر سورہ کہف کی آیات ۶۶ تا ۸۳ میں ہے۔جن میں اس مقام عرفان کا مفصل بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ مسکینوں کی کشتی غصب ہونے سے محفوظ ہو اور عبد عارف نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ معلوم ہونے پر اسے محفوظ کر دیا اور نا خلف لڑکے کی سرکشی اور کفر کے بدنتائج سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور عبد عارف کا ارادہ متحد ہو گیا۔اسی طرح قیموں کی گری دیوار کو کھڑا کرنے میں عبد عارف نے اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ساتھ موافقت کی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا واقعہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقام عرفان نمایاں ہے۔جیسا کہ بعد کے واقعات نے تصدیق کی کہ وہی خلافت و امامت کے مستحق اول تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ آپ دنیا سے عنقریب رخصت ہونے والے ہیں۔اس وقت آپ کا کسی کو اپنی جگہ امام مقرر کرنا بعد کے انتخاب پر اثر ڈالنے والا ہوگا۔ایسا نہ ہو کہ کہیں لوگ غلطی کر بیٹھیں۔آپ نے اپنے اس عمل سے ایک طرف تو شریعت کا احترام ملحوظ رکھا۔یعنی خلافت و امامت کا انتخاب جولوگوں کا حق ہے اسے ان کے لئے آزا در ہنے دیا اور اس میں دخل نہیں دیا اور یہ نہیں کہا کہ ابوبکر میرے بعد میرے جانشین ہوں گے۔مگر چونکہ آپ علی وجہ البصیرت تھے کہ