صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 76
بخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ کی۔وہ کہتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ بیماری میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي پڑھائیں۔حضرت عائشہ نے کہا، میں نے عرض کیا: مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِع النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ حضرت ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلّ لِلنَّاسِ فَقَالَتْ رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنا نہ سکیں گے۔اس لئے عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُوْلِيْ لَهُ إِنَّ آپ حضرت عمر کو کہیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِع حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں نے حضرت حفصہ سے النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَل کہا: آپ سے کہیں کہ حضرت ابوبکر جب آپ کی لِلنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنا اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهُ إِنَّكُنَّ نہیں سکیں گے۔اس لئے آپ حضرت عمر سے کہیں لَا نَتُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرِ کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں۔حضرت حفصہ نے ایسا فَلْيُصَلَّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةُ ہی کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خاموش رہو تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ابوبکر سے کہو ، وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔اس پر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ مَا كُنْتُ لأُ صِيْبَ مِنْكِ خَيْرًا۔سے کہا کہ میں تو تم سے کبھی بھلائی پانے کی نہیں۔اطرافه ١٩٨، ٦٦٤، ٦٦٥ ، ٦٨٣، ٧١٢،٦٨٧، ٧١٣، ٧١٦، ٢٥٨٨، ٣٠٩٩، ۷۳۰۳ ،٣٣٨٤ ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤ ٦٨٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۶۸۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ الْأَنْصَارِيُّ ہے۔انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک انصاری وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے مجھے بتایا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ وَحَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ کی اتباع کی اور خدمت کی اور آپ کے ساتھ رہے كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى ( بتایا ) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری میں