صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 75
صحيح البخاري - جلد ۲ ۷۵ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٤٦ : أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ اہل علم و فضل امامت کے زیادہ حق دار ہیں ٦٧٨: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۶۷۸: اسحق بن نصر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ حسین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زائدہ سے، زائدہ ارم الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى ابو بردہ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابوموسی سے مروی ہے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ آپ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو عَائِشَةُ إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ نے کہا: وہ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَ مُرُوا تو نرم دل آدمی ہیں۔ جب آپ کی جگہ ہوں گے تو أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَعَادَتْ فَقَالَ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا : مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت صَوَاحِبُ يُوسُفَ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ عائشہ نے پھر وہی بات دہرائی۔ تو آپ نے فرمایا: فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ۔ صل الله اطرافه: ٣٣٨٥۔ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ اس پر پیغام لانے والا ان کے پاس آیا تو انہوں نے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نماز پڑھائی ۔ ٦٧٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۷۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ ہے، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت