صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 73 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 73

جلد ۲ ۷۳ ١٠ - كتاب الأذان إِذَا دُعِيَ الْإِمَامُ لِلصَّلوة: اس سے مراد اذان نہیں۔بلکہ مقتدیوں کے جمع ہونے کی اطلاع ہے۔آپ نے نماز عشاء میں جو ایک دفعہ تاخیر کر دی تھی تو اس کی وجہ کھانا پینایا اور کوئی ذاتی کام نہ تھا؛ بلکہ جہاد کی تیاری تھی۔(كتاب مواقيت الصلوۃ باب ۲۴ روایت نمبر ۵۷۰) گھر کا کام کاج کرتے وقت اگر نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ کی یہی سنت تھی کہ سب کام چھوڑ کر فوراً نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے۔بیماری میں بھی جب تک چلنے پھرنے کی طاقت رہی نماز باجماعت ادا کرتے رہے اور مسجد کی حاضری صرف اس وقت چھوڑی جب چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے۔اور اس وقت بھی تخفیف ہونے پر بیماری کی معذوری سے اپنے لئے فائدہ نہیں اٹھایا۔( روایت نمبر (۶۶۴) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرُتَ (هود: (۱۱۳) { پس جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے (اس پر) مضبوطی سے قائم ہو جاہ کی تعمیل اپنی انتہائی کوشش کے ساتھ کی۔بَاب ٤ ٤ : مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَهْلِهِ فَأَقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ جو شخص اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول ہو اور نماز کے لئے تکبیرا قامت کہی جائے تو وہ نکل کھڑا ہو ٦٧٦: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا :۶۷۶ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ سے بیان کیا، کہا: حکم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ ابراہیم ہے، ابراہیم نے اسود سے روایت کی کہا: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُوْنُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ اپنے گھر کیا کیا کرتے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے تھے۔یعنی ان کے کاموں میں مدد دیا کرتے تھے۔جب نماز کا وقت الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ۔اطرافه ٥٣٦٣، ٦٠٣٩۔ہوتا تو آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔