صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 72
جلد ۲ ۷۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٤٣: إِذَا دُعِيَ الْإِمَامُ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِيَدِهِ مَا يَأْكُلُ جب امام نماز کے لئے بلایا جائے اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز ہو جسے وہ کھا رہا ہو ٦٧٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ :۶۷۵ عبد العزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ کیا، کہا: ابراہیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: عَمْرُو بْن أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ جعفر بن عمرو بن امیہ نے مجھے بتایا کہ ان رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے باپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ يَأْكُلُ ذِرَاعًا يَحْتَرُّ مِنْهَا فَدْعِيَ إِلَى وسلم کو دیکھا کہ آپ ( بکری کے ) بازو سے کاٹ الصَّلَاةِ فَقَامَ فَطَرَحَ السّكَيْنَ فَصَلَّى کر کھا رہے ہیں۔اتنے میں نماز کے لئے بلائے وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔گئے۔تو آپ اٹھے اور چھری پھینک دی اور آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔اطرافه ۲۰۸، ۲۹۲۳، ٥٤۰۸، ٥٤٢٢ ٥٤٦٢ تشریح: إِذَا دُعِيَ الْإِمَامُ إِلَى الصَّلوةِ وَ بِيَدِهِ مَا يَأْكُلُ : امام بخاری نے عنوان بَابِ إِذَا سے شروع کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ کر انسان ذکر الہی ہی میں اپنی زندگی کی غذا پاتا ہے اور کھانے کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کی طبیعت میں قطعا تشویش پیدا نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ کی یاد ہی اس کی غذا ہو جاتی ہے۔اس کی مثال اگلے دو بابوں کے ذیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے دی گئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنا، آپ کی فطرتی محبت کا طبعی تقاضا تھا اور تمام اہل اللہ کا یہی حال ہوتا ہے۔مگر امام بخاری نے عنوان باب میں امام کا ذکر جو خاص طور پر کیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ آداب امامت کا یہی تقاضا ہے کہ وہ حَيَّ عَلَى الصَّلوة پر سب سے پہلے جواب دینے والا ہو۔کیونکہ اس کے نمونہ کے ساتھ مقتدیوں کی اصلاح اور ان کی روحانی ترقی وابستہ ہے اور مقتدیوں کے مسجد میں جمع ہونے پر انہیں زیادہ انتظار میں نہیں رکھنا چاہیے۔فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَ السَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ۔۔۔۔وَذَا الْحَاجَّةِ ( روایت نمبر ۷۰۴۰۷۰۳) امام موصوف نے باب نمبر ۴۲ کا عنوان بھی ادا سے قائم کیا ہے۔کیونکہ ان مسائل کا تعلق ہر شخص کے مخصوص حالات سے ہے۔باب نمبر ۴۰ ۴۱ میں بھی ایک رخصت کا ذکر کیا گیا ہے۔مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد یہی تھا کہ آپ نے اس رخصت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔