صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 71
البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى فرمايا: جب تم میں سے کوئی کھانے پر بیٹھا ہو تو جلدی الطَّعَامِ فَلَا يَعْجَلْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ نہ کرے۔اپنی ضرورت پوری کر کے اس سے فارغ مِنْهُ وَإِنْ أُقِيِّمَتِ الصَّلَاةُ ہو۔خواہ نماز کی تکبیرا قامت ہو چکی ہو۔رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ وَهْبِ ابراہیم بن منذر نے وہب بن عثمان سے یہ روایت ابْنِ عُثْمَانَ وَوَهْبٌ مَدِينِي۔کی ہے اور یہ وہب مدنی تھے۔اطرافه: ٥٤٦٤، ٦٧٣ - شریح: فِقَهُ الْمَرْءِ : فقہ کے لغوی معنی معرفت سمجھے دانائی اور اصطلاح میں شریعت کی واقفیت اور دینی معرفت کے ہیں۔یہ اسلامی اصطلاح بھی بوجہ سوء استعمال اپنی اصلی شکل کھو چکی ہے۔شریعت کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ انسان محض حرکات بجالائے اور ظواہر کی حرف بحرف پابندی کرے۔خواہ مغزیات کی کیفیت کچھ ہو۔ظواہر کی پابندی بے شک فی حد ذاتہ ضروری اور پسندیدہ بات ہے۔مگر روح کی حفاظت اس سے کہیں بڑھ کر ضروری ہے اور در حقیقت اس کی حفاظت کے لئے ظواہر کا ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے۔خواہر کی پابندی بھی اسی وقت مفید ہوسکتی ہے۔جب ان کے پیچھے ان کی موافقت میں معنوی حالات کام کر رہے ہوں۔یہ باب اپنے مطالب کے لحاظ سے عملی شریعت کی ایک جان ہے۔نماز وہی ہے جو کامل اطمینان وسکون کی حالت میں ادا کی جائے۔جس میں خیالات کا انتشار نہ ہو۔بھوک لگی ہے، کھانا رکھا ہے تو اس حالت میں انسان اپنے اندر ایک اضطراب محسوس کرے گا۔اگر کوئی شخص اپنی بھوک کا مقابلہ کر کے اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے تو دراصل اس کی قوت توجہ بھی تقسیم ہو جاتی ہے۔کچھ بھوک کے احساس و تقاضا کا منہ بند کرنے کے لئے اور کچھ اپنی نماز کے لئے۔اس لیے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے بجز استثنائی حالات کے یہی پسند فرمایا ہے کہ کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات طبیعیہ سے فارغ ہو کر نماز میں آئے۔تا اطمینان و حضور قلب جو نماز کے لئے از بس ضروری ہے میسر ہوں۔حق اللہ کو جو ایک اہم چیز ہے محفوظ رکھنے کے لئے حق النفس کو مقدم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔لیکن اگر حق النفس کے مقدم کرنے میں حق اللہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس وقت حق النفس ہی کو قربان کرنا ضروری ہے۔نماز کی ادائیگی میں حق اللہ یہ نہیں کہ اول وقت میں اللہ تعالیٰ کے حضور چند کلمات دہرا کر رکوع سجود کر لئے جائیں۔بلکہ یہ ہے کہ پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کی جائے۔نیند کے غلبہ کی حالت میں بھی اسی وجہ سے سونے کی اجازت دی گئی ہے۔(کتاب الوضوء باب نمبر ۵۳ روایت نمبر ۲۱۲ ۲۱۳) اس ضمن میں باب نمبر ۴۰ بھی دیکھئے۔