صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 67 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 67

البخاری جلد ۲ ۶۷ بَاب ٤١ : هَلْ يُصَلِّي الْإِمَامُ بِمَنْ حَضَرَ کیا امام جو لوگ حاضر ہو گئے ہوں ان کو نماز پڑھائے ١٠ - كتاب الأذان وَهَلْ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَطَرِ اور کیا بارش میں جمعہ کے دن خطبہ پڑھے؟ ٦٦٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ :۶۶۸: عبدالله بن عبدالوھاب نے ہم سے بیان الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا، کہا: عبدالحمید حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِيَادِي صاحب زیادی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ عبدالله بن حارث سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ حضرت خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغِ ابن عباس ایک بارش اور کیچڑ والے دن میں ہم سے فَأَمَرَ الْمُؤَذِنَ لَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى مُخاطب ہوئے اور مؤذن کو جب وہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ قُلِ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ الصَّلوة پر پہنچا، کہا کہ نماز اپنی اپنی جگہ پر پڑھی فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَكَأَنَّهُمْ جائے۔اس پر انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، جیسے أَنْكَرُوْا فَقَالَ كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا إِنَّ کہ اسے انوکھا خیال کیا تو انہوں نے کہا: یوں معلوم هَذَا فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِي يَعْنِي النَّبِيَّ ہوتا ہے کہ تم اسے انوکھا سمجھتے ہو۔یہ تو انہوں نے بھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا عَزْمَةٌ وَإِنِّي کہا تھا جو مجھ سے بہتر ہیں۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ نے۔جمعہ واجب ہے مگر میں نے ناپسند کیا کہ میں تم۔کو تکلیف میں ڈالوں۔وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نیز حماد نے عاصم سے ، عاصم نے عبداللہ بن حارث الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاس نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ سے اور عبداللہ بن حارث نے حضرت ابن عباس قَالَ كَرِهْتُ أَنْ أُؤَتِّمَكُمْ فَتَجِيْنُونَ سے اس طرح بیان کیا۔سوائے اس کے کہ انہوں نے تَدُوسُونَ الطَّيْنَ إِلَى رُكَبِكُمْ۔یہ کہا کہ میں نے ناپسند کیا کہ تم گنہگار ٹھہرو اور تم کیچڑ اپنے گھٹنوں تک ساندتے ہوئے آؤ۔اطرافه: ٦١٦، ٩٠١۔