صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 66 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 66

صحیح البخاری جلد ۲ ५५ ١٠ - كتاب الأذان ٦٦٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۶۶۷ : اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب مَّحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ نے محمود بن ربیع انصاری سے روایت کی کہ حضرت عِتْبَانَ بْنَ مَالِكِ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ عَتبان بن مالک اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے اور أَعْمَى وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وہ نابینا تھے اور یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّهَا تَكُوْنُ سے کہا: یا رسول اللہ ! اندھیرا اور سیلاب ہوتا ہے اور الظُّلْمَةُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ میں نابینا ہوں ۔ اس لئے یا رسول اللہ میرے گھر میں الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُوْلَ اللهِ فِي بَيْتِي نماز پڑھئے ۔ جسے میں نماز گاہ بناؤں ۔اس پر رسول مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلَّى فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ الله صلى اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ تُحِبُّ پوچھا تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو أَنْ أُصَلِّيَ فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِّنَ الْبَيْتِ انہوں نے گھر میں ایک طرف اشارہ کیا اور رسول اللہ صلى الله فَصَلَّى فِيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس جگہ ) نماز پڑھی۔ اطرافه ٤٢٤، ٤٢٥ ، ٦٨٦، ٨٣٨، ٨٤٠، 1186، 4009، 4010، 5401، ٦٤٢٣، ٦٩٣٨ تشريح : الرُّحْصَةُ فِي الْمَطَرِ وَ الْعِلَّةِ أَنْ يُصَلِّيَ فِي رَحْلِهِ : امام موصوف معذوری کے وہ حالات پیش کر رہے ہیں۔ جن میں باجماعت نماز پڑھنے سے مستثنی کیا جانا چاہیے تھا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی گھر میں تنہا نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ حالانکہ آپ ہمیشہ حتی الامکان احکام کے نفاذ میں سہولت مد نظر رکھتے تھے۔ حضرت عتبان نابینا ہیں۔ راستے میں نالہ بہتا ہے اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اجازت دی مگر با جماعت نماز پڑھنے کی صورت میں ۔ ر نماز فریضہ تنہا پڑھی جاسکتی تھی تو آپ حضرت عتبان کو معذور سمجھ کر گھر میں تنہا نماز کو معذور سمجھ کر گھر میں تنہا نماز پڑھنے کی ضرور ا جاز رو را جازت دیتے۔ اگر