صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 65 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 65

البخاری جلد ۲ ۶۵ ١٠ - كتاب الأذان امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان باب حَدُّ الْمَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ مطلق رکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بطور مثال پیش کی ہے۔اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ہر ایک انسان کے اپنے مخصوص حالات پر اس کا دارو مدار ہے۔امام موصوف سحنوان کی تحدید تعیین کرنے کے لئے یہ روایت نہیں لائے جیسا کہ اگلے باب سے واضح ہوتا ہے۔جس میں بارش وغیرہ کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت کا ذکر ہے۔فَقِيلَ لِلْأَعْمَشِ: ریٹکڑا اس روایت کا حصہ نہیں ہے۔جس کے اعمش خود راوی ہیں۔بلکہ ابوداؤد الطیالسی) کی روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے امام تھے۔( فتح الباری جزء ثانی صفحہ (۲۰) اسی طرح ابو معاویہ کی روایت میں جو امام بخاری نے اعمش سے نقل کی ہے۔اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ آپ حضرت ابو بکر کی بائیں جانب بیٹھے تھے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ امام تھے۔آپ کے بیماری میں تخفیف محسوس کرنے اور حضرت ابو بکر کے پیچھے نماز پڑھنے کا واقعہ پہلے کا ہے اور پردہ اٹھا کر دیکھنے کا بعد کا۔(دیکھئے روایت نمبر ۶۸۱،۶۸۰) روایت نمبر ۶۶۵ یہ واضح کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ آپ اسی وقت نماز با جماعت ادا کرنے سے رکے - لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ الله وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ - جب آپ چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے اور بیماری کی تکلیف سخت ہو گئی۔(باقی تشریح کے لئے دیکھئے باب (۴۶) بَاب ٤٠ : الرُّحْصَةُ فِي الْمَطَرِ وَالْعِلَّةِ أَنْ يُصَلِّيَ فِي رَحْلِهِ بارش یا کسی اور سبب سے اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھنے کی اجازت ٦٦٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۶۶: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعِ أَنَّ ابْنَ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے روایت کی عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ که حضرت ابن عمر نے ایک سردی اور آندھی والی وَرِيْحٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا صَلُّوْا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ رات میں نماز کے لیے اذان دی۔پھر انہوں نے کہا: قَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ الله كَانَ يَأْمُرُ اپنے اپنے ٹھکانوں میں ہی نماز پڑھ لو۔اور انہوں الْمُؤَذِنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدِ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی اور ومَطَر يقولُ أَلَا صَلُّوا فِي الرّحال۔بارش والی رات ہوتی تو مو ذن سے فرمایا کرتے اور وہ کہتا : اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔اطرافه: ٦٣٢۔