صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 64
صحیح البخاری جلد ۲ ۶۴۴ ١٠ - كتاب الأذان ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لیے چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا اور آپ کی بیماری بڑھ گئی تو وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ آپؐ نے اپنی ازواج سے اجازت لی کہ میرے يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ گھر میں ہی آپ کی تیمار داری کی جائے۔ تو آپ کو رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ وَكَانَ انہوں نے اجازت دی۔ اس پر آپ دو آدمیوں کے بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ الله درمیان نکلے۔ آپ کے پاؤں زمین پر لکیریں ڈال مَا قَالَت رہے تھے اور آپ حضرت عباس اور ایک دوسرے فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ آدمی کے درمیان تھے۔ عبید اللہ کہتے تھے کہ میں نے عَائِشَةُ فَقَالَ لِي وَهَلْ تَدْرِي مَنِ اس کا ذکر حضرت ابن عباس کے پاس جس طرح کہ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لَا حضرت عائشہ نے کہا تھا کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ۔ کیا تم جانتے ہو وہ کون آدمی ہے جس کا حضرت عائشہ نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب ہیں ۔ اطرافه ۱۹۸ ، ٦٦٤، ٦٧٩ ، ٦٨٣ ٧١٢،٦٨٧، ٧١، ٧١٦، ٢٥٨٨، ۷۳۰۳ ،۵٣٣٨، ٤٤٤٤، ٤٤٤٥، ٧١٤۴ ،۳۰۹۹ تشريح : حَدَّ الْمَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ: باب کے عنان اور روایت حولہ بال سےامام بخاری یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہر بیماری نماز فریضہ سے غیر حاضری کا عذر نہیں ہو سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے۔ چلنے کی طاقت نہ تھی۔ ذرا سا افاقہ آپ نے محسوس کیا اور دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لئے پاؤں گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آکر با جماعت نماز میں شریک ہوئے ۔ فَلِذلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (الشوری:۱۲) { پس اسی بناء پر چاہیے کہ تو انہیں دعوت دے اور مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم ہو جا جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے۔ جس امر کی دعوت دینے کا آپ کو جس طرح حکم ہوا اسی طرح آپ نے بلندیوں سے پکار پکار کر ببانگ بلند تمام جہان کو دعوت دی اور اس دعوت کے مطابق خود بھی اس خوبی سے عمل کیا ہے کہ اس کی نظیر داعیان حق کی زندگیوں میں ملنی ناممکن ہے۔ شدت بیماری میں بھی چلنے کی طاقت نہ پاکر حَيَّ عَلَی الصَّلوة کی آواز پر گھتے ہوئے آپ مسجد میں پہنچے اور نماز فریضہ باجماعت ادا کی ۔ یہ وہ دعوت تامہ اور صلوۃ قائمہ ہے جس کا پاک نمونہ ہم اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پاتے ہیں اور جس وقت مسلمان اس پر کار بند تھے انہوں نے ایک دنیا کی کایا پلٹ دی۔ اب بھی ان کی کامیابی کا راز یہی دو چیزیں ہیں۔ تبلیغ کما حقہ اور پابندی نماز کما حقہ ۔ دونوں باتیں اسلام اور مسلمانوں کی جان ہیں۔