صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 774
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: صلى الله ۷۷۴ ٢٣ - كتاب الجنائز مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النبي علی امام بخاری نے اس باب کے عنوان میں ایک لطیف تصرف سے کام لیا ہے۔قرآن مجید کی دو آیتوں کا حوالہ دے کر ہر انسان کی دو قبریں ثابت کی ہیں۔ایک وہ قبر ہے جس کو اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور جس کا ذکر ان آیات میں ہے۔فرمایا: فَقَدَّرَهُ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ثُمَّ إِذَا شَاءَ اَنْشَرَهُ (عبس: ۲۰ تا ۲۳) یعنی انسان کو اللہ نے پیدا کیا پھر اس کے لئے ترقی کا ایک اندازہ مقرر کیا۔پھر اس کے راستہ کو آسان بنایا۔پھر عمر طبعی کے بعد اسے مار دیا۔پھر اسے موعود قبر میں رکھا۔پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ اٹھا کر کھڑا کر دے گا اور ایک وہ قبر جو انسانوں کے ہاتھوں سے بنائی جاتی ہے۔جس کے لئے لفظ کھاتا ہے آیت أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء و امواتا (المرسلات : ۲۷) کا حوالہ دیا ہے۔اس آیت میں زمین کو سکھانا یعنی زندوں اور مردوں دونوں کو سنبھالنے اور سمیٹنے والا قرار دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۳۹۰ تا۱۳۹۲ میں زمینی قبروں کا ذکر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر دیوار کھینچ کر بند کر دی گئی تھی۔ولید بن عبد الملک نے مدینہ کے امیر عمر بن عبدالعزیز کولکھا کہ پرانی عمارت جو بوسیدہ ہوگئی ہے گرا کر قبریں درست کر دی جائیں۔وہ زمین سے پیوست تھیں۔ان کو زمین سے اٹھایا گیا۔اسی اثنا میں کہ عمارت گرا کر از سرنو بنائی جارہی تھی۔ایک پاؤں پنڈلی سمیت ظاہر ہوا جس پر عمر بن عبدالعزیز گھبر ائے اور روپڑے کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک نہ ہو۔مگر عروہ بن زبیر نے شناخت کیا کہ وہ حضرت عمر کا پاؤں ہے اور انہیں تسلی ہوئی۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۳۲۶) روایت نمبر ۱۳۹۰ میں جس قبر کے دیکھنے کا ذکر سفیان تمہار نے کیا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی قبر ہے جو عمر بن عبدالعزیز نے تجدید عمارت کے وقت اونچی کر کے بنوائی تھی۔روایت نمبر ۱۳۹۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہود و نصاری کی قبر پرستی کے بارے میں وارد ہوا ہے۔اس سے در حقیقت مسلمانوں کو تنبیہ کرنا مقصود ہے۔مگر جب پیمبر اور اطاعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کرنے والوں نے آپ کی اس تنبیہ سے جو آخری وصیت کی حیثیت رکھتی ہے کم فائدہ اُٹھایا ہے۔اسلام کے نام لیواؤں کا جو حال ہے وہ ظاہر ہے۔قبر سے مقبرے، مقبرے سے زیارت گاہ، زیارت گاہ سے درگاہیں بن گئیں۔پھر قل ، عرس، چادر، گاگر، صندل اور طوائف کے مجرے۔خدا تعالیٰ جانے کس کس شکل میں اُن پر جہینہ سائی ہونے لگی ! عبرت کا مقام ہے! اخلاق سوزی و فحاشی اس کے علاوہ باعث ماتم ! كَنَّانِى عُرُوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : مذکورہ بالا سند سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر نے ان کی کنیت رکھی۔حالانکہ ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ان کی کنیت جو مشہور ہے ابو عمرو ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۳۲۵) وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ : یعنی مذکورہ بالا سند ہے۔لَا أَزَكَّى به أَبَدًا : يعنى لا يفنى عَلَيَّ بِسَبَبِهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہونے کی وجہ سے مجھے آپ کی دوسری ازواج پر طبعا امتیاز ہوگا۔جس سے لوگ میری تعریف کریں گے۔اس لئے مجھے میری سہیلیوں میں ہی دفن کرنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کی تاثیر قدسی کی برکت سے آپ کی ازواج اور آپ کے دوسرے ساتھیوں کو تزکیۂ نفس کامل طور پر حاصل تھا اور ان کی بصیر تھیں ایسی روشن اور تیز ہو چکی تھیں کہ انہیں اپنے نفس کی مخفی سے مخفی خواہش کا