صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 768 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 768

صحيح البخاری جلد ۲ 241 ٢٣ - كتاب الجنائز طریق استدلال اس کتاب کی ترتیب میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔روایت مذکورہ بالا میں جو سبق ہمارے لئے ہے وہ حضرت ابو بکر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور ان کی بے نفسی اور بنی نوع انسان کی غایت درجہ ہمدردی ہے۔انہوں نے اپنے آپ کو پرانے کپڑوں میں کفنانے میں ترجیح دی، تانئے کپڑوں سے زندہ لوگ فائدہ اُٹھا ئیں۔کسی عمل کی قدر و قیمت اور ثواب کا دارومدار نیت اور ذہنی وقلبی رجحانات پر ہے۔اگر کسی کی خواہش جمعہ کے دن فوت ہونے کے بارے میں اس لئے ہے کہ اس دن مومنوں کی جماعت کا بیشتر حصہ نماز جنازہ میں شامل ہو کر اس کے لئے مغفرت کی دعا کریں تو اس لحاظ سے یہ خواہش قابل قدر ہے اور اسی قسم کے اعتبارات سے خاص ایام و اوقات میں فوت ہونے کی خواہش نیک خواہش ہے۔ورنہ فی ذاتہ کسی دن کو دوسرے دن پر کوئی فضیلت نہیں ، سب ایام اللہ کے ہیں۔حضرت ابو بکر کی وفات ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ھ کو ہوئی۔پندرہ دن بیمار رہے۔(اسد الغابة۔تحت ذكر عبد الله بن عثمان بن عامر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات سے متعلق محققین نے تحقیق کی ہے اور اکثر کا کیم ربیع الاول ااھ پر اتفاق ہے۔جو ۲۶ مئی ۶۳۲ ء کے مطابق ہے۔اس تاریخ کی تعیین میں محمود پاشا فلکی نے قابل قدر محنت کی ہے اور اپنی تحقیق کی بنیاد حجتہ الوداع کی نویں تاریخ پر رکھی ہے۔اس بارہ میں حضرت ابن عباس کی ایک روایت ہے کہ سود کے متعلق سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۱ حجتہ الوداع کے روز نازل ہوئی اور اس کے بعد ا ۸ دن آپ زندہ رہے۔9 ذوالحجہ اھ سے ۸۱ دن یکم ربیع الاول 11ھ کو ہوتے ہیں۔آپ کی پیدائش کے دن سے متعلق بھی قیاس آرائی سے کام لیا گیا ہے۔یعنی ۸ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ء جو محمود پاشا فلکی کے حساب سے ہے۔بَابِ ٩٥ : مَوْتُ الْفُجَأَةِ الْبَغْتَةِ اچا نک نا گہانی موت ۱۳۸۸ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۱۳۸۸ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ) کہا : ( محمد بن جعفر ( بن ابی کثیر ) نے ہم سے بیان الله کیا۔انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ) نے مجھے بتایا۔هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِي اقْتُلِتَتْ نَفْسُهَا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری ماں کی اچانک جان نکل گئی ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر وہ بات کرنے پاتی تو وہ خیرات کرتی۔سو کیا اسے ثواب ہوگا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ۔اطرافه: ٢٧٦٠۔