صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 767
صحيح البخاری جلد ۲ 272 ٢٣ - كتاب الجنائز عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے؟ يَوْمٍ هَذَا قَالَتْ يَوْمُ الْاِثْنَيْنِ قَالَ أَرْجُو انہوں نے کہا: پیر کے دن۔انہوں نے کہا: تو آج کون سا فِيْمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبِ دن ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: پیر کا دن۔حضرت ابوبکر نے عَلَيْهِ كَانَ يُمَرَّضُ فِيْهِ بِهِ رَدْعٌ مِنْ کہا: میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت سے رات تک۔پھر زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلُوْا ثَوْبِي هَذَا انہوں نے اپنے کپڑے پر نگاہ ڈالی جو بیماری میں پہنے تھے۔وَزِيْدُوْا عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ فَكَفَنُوْنِي فِيْهَا اس پر زعفران کا دھبہ تھا۔حضرت ابوبکڑ نے کہا: میرا یہ کپڑا قُلْتُ إِنَّ هَذَا خَلَقَ قَالَ إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ دهودو اور دو کپڑے اور لے لینا اور مجھے ان میں کفنانا۔میں بِالْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ نے کہا یہ تو پرانا ہے۔فرمایا: زندہ آدمی بہ نسبت مردہ کے نئے فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ کپڑے کا زیادہ مستحق ہے۔کفن تو (مردے کی ) پیپ کے الثَّلَاثَاءِ وَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ لئے ہی ہے۔پھر حضرت ابوبکر اس روز فوت نہ ہوئے ، یہاں تک کہ منگل کی رات آگئی اور صبح سے پہلے دفن کئے گئے۔تشریح : مَوْتُ يَوْمِ الْاِثْنَيْنِ : تزندگی نے حضرت عبد اللہ بن عمر کی یہ روایت نقل کی ہے : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ (ترمذى، كتاب الجنائز، باب ما جاء فيمن مات يوم الجمعة) يد روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے جہاں جمعہ کے روز فوتیدگی کی فضیلت کے بارہ میں روایتوں کی کمزوری کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔وہاں یہ بتانا بھی مد نظر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ یعنی پیر کو فوت ہوئے تھے۔اس لئے فتنہ قبر سے محفوظ رہنے کی خصوصیت کسی خاص دن سے وابستہ نہیں۔دو شنبہ کا دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے ایک امتیاز رکھ سکتا تھا۔مگر حضرت ابو بکر نے باوجود اس خواہش کے کہ وہ دوشنبہ کو فوت ہوں ، سہ شنبہ یعنی منگل کی رات کو فوت ہوئے۔بعض روایات کی بناء پر و غیر مستند ہیں بعض دنوں کو فضیلت دی گئی ہے۔مثلا جمعہ کے دن فوت ہونا بہت مبارک سمجھا گیا ہے۔اسی طرح پیر کے دن فوت ہو نا موجب نجات خیال کیا گیا ہے۔عنوان باب میں يَوْمُ الْاثْنَيْنِ کا فقرہ نا تمام چھوڑ کر اس بارے میں کسی فضیلت کا ذکر نہیں کیا گیا۔کیونکہ مرنا کسی کے اپنے اختیار میں نہیں اور جہاں اختیار نہیں وہاں ثواب و فضیلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حضرت ابوبکر کی خواہش در اصل اس عشق کی وجہ سے تھی جو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا اور اس اعتبار سے ان کی یہ خواہش ضرور قابل قدر ہے۔امام بخاری کا جمعہ کے دن فوت ہونے کا عنوان ترک کرنا اور پیر کے دن مرنے کا عنوان نا تمام چھوڑنا اور اس ضمن میں منگل کے دن فوت ہونے سے متعلق ایک مستند روایت پیش کرنا اُن تصرفات لطیفہ میں سے ہے جن کی طرف قارئین کی توجہ جابجا منعطف کی جاچکی ہے۔یہی