صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 769
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح 249 ٢٣ - كتاب الجنائز مَوْتُ الْفُجَاةِ الْبَغْتَةِ ابوداؤد نے ایک روایت نقل کی ہے جس سے نا گہانی موت کی کراہیت ثابت ہوتی ہے۔اس کے یہ الفاظ ہیں : مَوْتُ الْفَجَاءَةِ احْذَةُ اسف۔(ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب موت الفجأة) ناگہانی موت افسوس ناک موت ہے اور امام احمد بن حنبل نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے پاس سے گزرے جو گر نے کو تھی۔آپ تیز قدم چلے اور فرمایا: اكْرَهُ مَوْتَ الْقَوَاتِ (مسند احمد بن حنبل، جزء ثانی، صفحه ۳۵۶) ایسی موت نا پسند کرتا ہوں، جس میں نہ تیاری ہو اور نہ وصیت کی جا سکے۔امام بخاری کے نزدیک یہ روایتیں ضعیف ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتوئی پوچھنے والے کا واقعہ سن کر برا نہیں مانا۔پوچھنے والے حضرت سعد بن عبادہ ہیں اور ان کی والدہ کا نام حضرت عمرۃا ہے۔(فتح الباری جزء۳ صفحه ۳۲۳) باب ٩٦ مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں سے متعلق جور واسیتیں وارد ہوئی ہیں فَأَقْبَرَهُ (عبس: (۲۲) أَقْبَرْتُ الرَّجُلَ ( یہ جو قرآن میں آیا ہے ) فَاقْبَرَہ اس کے معنی ہیں: خدا تعالیٰ إِذَا جَعَلْتُ لَهُ قَبْرًا وَقَبَرْتُهُ دَفَنْتُهُ كِفَاتًا نے اس کے لئے قبر بنائی (اور جب کوئی) أَقْبَرتُ الرَّجُلَ (المرسلات (٢٦) يَكُوْنُوْنَ فِيهَا أَحْيَا (٢) يَكُوْنُوْنَ فِيْهَا أَحْيَاء (کہے تو اس کے معنے ہوں گے: میں نے اس کے لئے قبر بنائی اور (جب) قَبَرتُه (کہے تو معنے ہوں گے ) میں نے اسے دفن کیا اور کفانا کے معنی ہیں: زمین میں زندگی بسر کرنے اور مرنے کے بعد اس میں دفن کئے جاتے ہیں۔وَيُدْفَنُوْنَ فِيْهَا أَمْوَاتًا ۱۳۸۹: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۱۳۸۹: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، (کہا) کہ سلیمان سُلَيْمَانُ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنِي نے مجھے بتایا۔ہشام سے مروی ہے اور محمد بن حرب نے مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَان بھی مجھ سے بیان کیا، کہا:) ابومروان ( يحيی بن ابی زکریا) يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ بن زبیر) سے عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری