صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 766 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 766

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز يُوقِدُ النَّارَ مَالِكَ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ بوڑھا شخص جو تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا تھا وہ حضرت الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور بچے جو اُن کے ارد گرد تھے تو وہ لوگوں الْمُؤْمِنِيْنَ وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ کے بچے ہیں اور وہ جو آگ جلا رہا ہے تو وہ مالک فرشتہ ہے جو الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيْكَائِيلُ دوزخ کا داروغہ ہے اور وہ پہلا گھر جس کے اندر رتم گئے تھے وہ عام مومنوں کا گھر ہے اور یہ جو دوسرا گھر ہے تو وہ شہیدوں کا گھر فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے۔اپنا سر اٹھاؤ۔میں فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا ذَاكَ مَنْزِلُكَ نے اپنا سر اُٹھایا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر ابر کی طرح قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ کوئی چیز ہے۔ان دونوں نے کہا: وہ تمہارا مقام ہے۔میں نے لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلُهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ کہا: مجھے چھوڑو کہ میں اپنے مقام میں جاؤں تو ان دونوں نے أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ کہا: ابھی تمہاری عمر باقی ہے جو تم نے پوری نہیں کی۔اگر تم پوری کر چکے ہوتے تو تم اپنے مقام میں پہنچ جاتے۔اطرافه ٨٤٥، ۱۱٤٣، ۲۰۸۵، ۲۷۹۱، ٣٢۳۶، ٣٣٥٤، ٤٦٧٤، ٦٠٩٦، ٧٠٤٧۔بَابِ ٤ ٩ : مَوْتُ يَوْمِ الْإِثْنَيْنِ پیر کے دن فوت ہونا ۱۳۸۷: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۱۳۸۷ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ وہیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ) سے ، ( عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ كَفَّتْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہ کے پاس ( عیادت کے لئے گئی ) تو انہوں نے پوچھا: قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابِ بِيْضِ سَحُوْلِيَّةٍ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفنایا تھا ؟ لَيْسَ فِيْهَا قَمِيْضٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ لَهَا حضرت عائشہ نے کہا: تین ڈھلے ہوئے سفید سوتی کپڑوں ، أَي يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ میں۔ان میں نہ گرتا تھا نہ پگڑی اور انہوں نے حضرت عائشہ