صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 765
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۶۵ ٢٣ - كتاب الجنائز خَضْرَاءَ فِيْهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي تو اس کے منہ پر پتھر مارتا اور وہ جہاں ہوتا وہاں لوٹ جاتا۔ میں أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ نے کہا: یہ کیا؟ دونوں نے کہا: آگے چلیں ۔ ہم چل پڑے۔ قَرِيبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ یہاں تک کہ ایک سرسبز باغ میں آئے، جس میں ایک بہت ہی يُوْقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ بڑا درخت تھا۔ اس کی جڑ کے پاس ایک بوڑھا اور کچھ بچے تھے وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا اور دیکھا کہ ایک شخص درخت کے قریب ہے۔ اس کے سامنے آگ ہے، جسے وہ جلا رہا ہے۔ وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَاءً چڑھ گئے اور مجھے ایسے گھر میں لے گئے کہ میں نے اس سے وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَ جَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي اچھا ( اور اس سے بہتر ) گھر کبھی نہیں دیکھا۔ اس میں بوڑھے، الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ جوان، عورتیں اور بچے ہیں۔ پھر انہوں نے مجھے وہاں سے نکالا وَأَفْضَلُ فِيْهَا شُيُوحٌ وَشَبَابٌ قُلْتُ اور درخت پر چڑھا لے گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ کے جو پہلے گھر سے بھی زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا۔ اس میں قَالَا نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ بوڑھے اور جوان ہیں۔ میں نے کہا: تم نے مجھے آج رات خوب فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذَّبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ گھمایا ہے جو میں نے دیکھا ہے اس کے متعلق : مجھے بتلاؤ تو سہی۔ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ مَا رَأَيْتَ ان دونوں نے کہا: اچھا وہ جو تم نے دیکھا تھا کہ اس کا گلپھڑا اچیرا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ جا رہا ہے، وہ بڑا جھوٹا شخص ہے جو جھوٹی بات بیان کرتا۔ لوگ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ اسے سن کر ادھر اُدھر لے جاتے ، یہاں تک کہ چاروں طرف عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيْهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ وہ بات کہنچ جاتی۔ اس لئے اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي یہی معاملہ ہوتا رہے گا جو تم نے دیکھا اور جسے دیکھا کہ اس کا سر پھوڑا جا رہا ہے، وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ النَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي نے قرآن سکھایا تھا تو وہ رات کو تو اس سے غافل ہوتا رہا اور دن النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ کو اس پر عمل نہ کیا۔ اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن تک یہی جسے تم نے الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ہوتا رہے گا اور وہ لوگ جوتم نے گڑھے میں دیکھے تو وہ زانی ہیں وَالصَّبْيَانُ حَوْلَهُ أَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي اور جس کو تم نے نہر میں دیکھا، اس سے مراد سود خور ہیں اور وہ