صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 762
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٨٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۱۳۸۵ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ کیا، کہا: ) ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے، پھر اس يُمَحِسَانِهِ كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةَ کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔جیسے جانور جانور ہی جنتے ہیں۔کیا تم ان میں هَلْ تَرَى فِيْهَا جَدْعَاءَ اطرافه ،۱۳۵۸ ، ۱۳۵۹ ، ٤٧٧٥ ٦٥٩٩۔کن کٹا بھی دیکھتے ہو؟ تشریح : مَا قِيلَ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ: امام بخاری نے دو باب یعنی نمبر ۹ ۹۳ یکے بعد دیگرے قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مشرکوں کے بچے مرنے کے بعد جنت میں ہوں گے۔باب ۹۲ کی روایتوں سے ظاہر ہے کہ بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔بعد کو اس کا ماحول اس میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اگر وہ بچپن ہی میں فوت ہو جائیں تو بالطبع وہ فطرت پر مریں گے۔دوسرے باب کی روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اردگرد جو بچے تھے وہ لوگوں کے تھے۔یعنی مشرکوں ، کافروں اور مسلمانوں کے۔باب ۹۳ کا نیا عنوان اس لئے قائم نہیں کیا کہ اس کا تعلق بلحاظ نفس مضمون باب ۹۲ سے ہے۔غیر مسلم بچے کا جنازہ پڑھنے یا نہ پڑھنے سے متعلق باب ۷۹ میں مسئلہ کی اصل نوعیت اور اس سے متعلق فقہاء کی رائے کا ذکر گزر چکا ہے۔یہاں اس کے جنتی یا جہنمی ہونے کے بارے میں بحث ہے۔کتاب الوضو باب ۴ے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خواب کے ضمن میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ شرعی مسائل کا استنباط خواب سے نہیں کیا جا سکتا۔یعنی وہ مسائل جن کا تعلق عملی شریعت سے ہے۔یہاں ایک ایسے عقیدہ سے متعلق رائے کا اظہار ہے جس کی تائید ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ہوتی ہے اور دوسری طرف عالم ارواح کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مشاہدہ سے جو آپ کو بذریعہ خواب ہوا۔اس وجہ سے باب ۹۲ کو باب ۹۳ پر مقدم کیا ہے۔(اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب نمبر (۹)