صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 762 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 762

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۶۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٨٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۱۳۸۵ : آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ کیا ، (کہا: ) ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے ، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے، پھر اس يُمَحِّسَانِهِ كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيمَةَ کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے جانور جانور ہی جنتے ہیں ۔ کیا تم ان میں هَلْ تَرَى فِيْهَا جَدْعَاءَ اطرافه: ۱۳۵۸ ، ۱۳۵۹، 4775، 6599۔ کن کٹا بھی دیکھتے ہو؟ تشريح : مَا قِيلَ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ : امام بخاری نے دو باب یعنی نبر ۹۲ ۹۳ یکے بعد دیگرے reen---- قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مشرکوں کے بچے مرنے کے بعد جنت میں ہوں گے۔ باب ۹۲ کی روایتوں سے ظاہر ہے کہ بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد بعد کو اس : کا ماحول اس میں تبدیلی پیدا پیدا کرتا ہے اور اگر وہ بچپن ہی میں ہی میں فوت ہو جائیں تو بالطبع وہ فطرت پر مریں گے۔ دوسرے باب کی روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ارد گرد جو بچے تھے وہ لوگوں کے تھے۔ یعنی مشرکوں ، کافروں اور مسلمانوں کے۔ ے کا جنازہ باب ۹۳ کا نیا عنوان اس لئے قائم نہیں کیا کہ اس کا تعلق بلحاظ نفس مضمون ہے مون باب ۹۲ سے ہے۔ عمیر ہے۔ غیر مسلم بچے کا پڑھنے یا نہ پڑھنے سے متعلق باب ۷۹ میں مسئلہ کی اصل نوعیت اور اس سے متعلق فقہاء کی رائے کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں اس کے جنتی یا جہنمی ہونے کے بارے میں بحث ہے۔ کتاب الوضو باب ۷۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خواب کے ضمن میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ شرعی مسائل کا استنباط خواب سے نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی وہ مسائل جن کا تعلق عملی شریعت سے ہے۔ یہاں ایک ایسے عقیدہ سے متعلق رائے کا اظہار ہے جس کی تائید ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ہوتی ہے اور دوسری طرف عالم ارواح کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مشاہدہ سے جو آپ کو بذریعہ خواب ہوا۔ اس وجہ سے باب ۹۲ کو باب ۹۳ پر مقدم کیا ہے ۔ (اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب نمبر ۹۱)