صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 758
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۸ ٢٣ - كتاب الجنائز بَاب ۸۹: الْمَيِّتُ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ میت کو صبح شام اس کا ٹھکانہ اس کے سامنے پیش کر کے دکھایا جاتا ہے ۱۳۷۹: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۱۳۷۹ اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ نَافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ (انہوں نے کہا: ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ (جنت يا دوزخ والا ) اس کے سامنے پیش کر کے اسے أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ دکھایا جاتا ہے۔اگر جنتیوں میں سے ہوا تو جنتیوں میں فَمِنْ أَهْل النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ اور اگر دوزخیوں میں سے ہوا تو دوزخیوں میں اور اسے کہا حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اطرافه: ٣٢٤٠، ٦٥١٥- جاتا ہے۔یہ ہے تیرا ٹھکانہ۔جب تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے دن اٹھائے۔الْمَيِّتُ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ : نیک و بد اعمال جس طرح اس دنیا میں تشریح اپنے برے بھلے نتائج کا عکس ڈالتے ہیں اور ان کے ظہور سے پہلے انسان اپنے نفس میں افسردگی یا انبساط محسوس کرتا ہے اسی طرح عالم برزخ میں بھی ہوگا اور انسانی روح کو واضح طور پر مشاہدہ کرایا جائے گا کہ آیا اس کا ٹھکانہ جنت میں ہے یا جہنم میں تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی ” دوسرا دقیقہ معرفت صفحه ۹۴ تا ۹۷، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۸ تا ۴۱۱۔معتزلہ وغیرہ کے انکار کی وجہ سے امام موصوف کو علیحدہ علیحدہ یہ عنوان قائم کرنے پڑے ہیں۔دنیا کے صبح و شام جن معنوں میں ہمارے لئے ہیں مُردوں کے لئے نہیں۔صرف سمجھانے کی غرض سے طرز بیان میں اس مادی دنیا کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔جیسا کہ اگلا باب بھی یہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ ان امور کا تعلق اس کی روح کے ساتھ ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۳۰۸)