صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 759 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 759

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۹ باب ۹۰ : كَلَامُ الْمَيِّتِ عَلَى الْجَنَازَةِ چار پائی پر میت کا بات کرنا ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۳۸۰: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۱۳۸۰ قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، عَنْ سَعِيدِ بْن أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ ) کہا : ( ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ الله سعيد بن ابی سعید سے، سعید نے اپنے باپ سے عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ روایت کی۔انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ سے سنا۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ فرمایا: جب میت کی چار پائی رکھ دی جاتی ہے اور پھر كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُوْنِي قَدِمُونِي لوگ اسے اپنی گردنوں پر اُٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا (روح) ہوئی تو وہ کہتی ہے مجھے آگے لے چلو، مجھے أَيْنَ يَذْهَبُوْنَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ آگے لے چلو۔اور اگر نیک نہ ہوئی تو وہ کہتی ہے: شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا ہائے مصیبت! یہ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟ انسان کے سوا ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے۔اگر انسان الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ اطرافه: ١٣١٤، ١٣١٦۔تشریح: اسے سن پائے تو بے ہوش ہو کر گر پڑے۔كَلامُ الْمَيِّتِ عَلَى الْجَنَازَةِ: باب ۵۲ کا عنوان یہاں خفیف سے لفظی تغیر کے ساتھ دُہرایا گیا ہے اور روایت نمبر ۱۳۱۶ کے دوبارہ ذکر کرنے سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ انسانی روح کو یہ احساس کہ اس کا انجام نیک ہے یابد؛ موت کے بعد معاشروع ہو جاتا ہے۔نیز دیکھئے تشریح باب ۵۲۔بَاب ۹۱ : مَا قِيْلَ فِي أَوْلَادِ الْمُسْلِمِيْنَ مسلمانوں کے بچوں سے متعلق جو بیان کیا گیا ہے قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَّاتَ سے روایت کرتے ہوئے کہا: جس کے تین ایسے