صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 757
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۷ ٢٣ - كتاب الجنائز مراد زمینی قبر لی ہے۔ جیسا کہ سابقہ باب میں بیان کیا جا چکا ہے۔ روایت نمبر ۱۳۷۵ میں جو آواز سننے کا واقعہ مروی ہے وہ بحالت کشف ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے : اسلامی اصول کی فلاسفی، پہلا اور دوسرا دقیقه معرفت صفحه ۸۶ تا ۹۷ ، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۰ تا ۴۱۱ باب ۸۸ : عَذَابُ الْقَبْرِ مِنَ الْغِيْبَةِ وَالْبَوْلِ غیبت اور پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوگا ۱۳۷۸ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۱۳۷۸: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرَّ مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس سے روایت کی کہ حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابن عباس رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ قبروں کے پاس سے گذرے۔ آپؐ نے فرمایا: ان کو فِي كَبِيرٍ ثُمَّ قَالَ بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے اہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذار فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ وَأَمَّا الْآخَرُ نہیں دیا جا رہا۔ پھر آپ نے فرمایا: البتہ ان میں سے فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ ایک جو ہے تو وہ غیبت کرتا پھرتا تھا رتا تھا اور دوسرا جو ہے، عُوْدًا رَطْبًا فَكَسَرَهُ بِاثْنَتَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا۔ حضرت ابن عبا رغم وہ عباس نے کہا: پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو ٹکڑے كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّهُ کئے۔ پھر ان میں سے ہر ایک ٹکڑے کو ہر ایک قبر پر گاڑ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ۔ دیا۔ پھر فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ سوکھیں نہیں اُن اطرافه: ٢١٦ ، ٢١٨، ١٣٦١، ٦٠٥٢، 6055۔ کے عذاب میں تخفیف کی جائے۔ كتاب الوضوء باب تشريح : عَذَابُ الْقَبْرِ مِنَ الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ: باب مذکورہ بال سے تعلق میں دیکھے کتاب الوا نمبر ۵۵ ، روایت نمبر ۲۱۶