صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 756 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 756

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۶ ٢٣ - كتاب الجنائز فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذِّبُ فِي یہود ہیں ۔ انہیں قبروں میں سزا دی جارہی ہے۔ اور نضر قُبُورِهَا وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ (بن شميل ) نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ( کہا: ) عون نے حَدَّثَنَا عَوْنٌ سَمِعْتُ أَبِي سَمِعْتُ ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا ) میں نے اپنے باپ ( ابو جحیفہ ) سے سنا۔ (وہ کہتے تھے : ) میں نے حضرت براء الْبَرَاءَ عَنْ أَبِي أَيُّوْبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سے سنا۔ حضرت براء نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى الله سے ، حضرت ابوایوب نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ ١٣٧٦ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى حَدَّثَنَا ۱۳۷۶: معلّی ( بن اسد ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) د وهَيْبٌ عَنْ مُّوْسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ وہیب نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ انہوں نے کہا: خالد بن سعید بن عاص کی بیٹی ( حضرت أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ام خالد ) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے نبی ہے صلى الله عروسہ سے اعلية وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ سنا کہ آپ قبر کے عذاب سے پناہ مانگ رہے تھے۔ اطرافه: ٦٣٦٤ ۱۳۷۷ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۳۷۷ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي (کہا) ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا۔ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ (انہوں نے کہا: ) تھی ( بن ابی کثیر ) نے ہمیں بتایا۔ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے ابو سلمی سے، ابو سلمی نے حضرت ابو ہریرہ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے میرے اللہ ! فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَةِ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ لیتا ہوں اور (ایسا ہی ) الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ۔ آگ کے عذاب سے، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح الدجال کے فتنہ سے۔ تشريح : الْقَبْرِ: اس کا سابقه با التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ : اس باب کا تعلق بھی سابقہ باب سے ہے یعنی اگر عذاب قبر کا وجود نہیں تو اس نہیں تو اس سے پناہ مانگنے کے کیا معنی؟ جن لوگوں نے انکار نے انکار کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قبر سے