صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 755
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۵ ٢٣ - كتاب الجنائز سے سوال و جواب کا تعلق محض قوت مستحیلہ سے استحضار ارواح کی قسم کا نہیں۔ روحوں کی حاضری اور ان کی ملاقات اور ان سے سو تعلق رکھتا ہے اور یہ صورت ، مکاشفہ کی ہے۔ یہ ایک الگ مضمون ہے جس کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔ اس تعلق میں دیکھئے آنحضرت ﷺ کے مکاشفات زیر روایت متعلق وفات نجاشی، شہداء جنگ تبوک، شہادت حضرت عبداللہ ابوجہ عليه صلى الله صلى الله جابر اللہ نے بحالت کشف آنحضرت علی رت علی سے بار ہا ملاقات کی ۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ یہ احمد یہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اہل اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بحالت کشف کئی بار ملاقات کی جس کا ذکر آپ ایک قصیدہ میں بایں الفاظ فرماتے ہیں: وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ جَمَالَهُ بعيُون جِسْمِي قَاعِدًا بِمَكَانِي وَرَأَيْتُ فِي رَيْعَانِ عُمُرِى وَجْهَهُ ثُمَّ النَّبِيُّ بِيَقْظَتِي لَا قَانِي ( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۳) یعنی خدا کی قسم ! میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کو اپنے اس جسم کی آنکھوں کے ساتھ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آغاز جوانی میں بھی آپ کے روئے مبارک کا دیدار کیا۔ پھر ایک موقع پر عین بیداری کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات کا شرف بخشا۔ اور حضرت عیسی کی ملاقات سے متعلق فرماتے ہیں: میری بارہا کشفی حالت میں حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے ایک ہی دستر خوان پر میرے ساتھ کھانا کھایا ہے۔ اولیاء اللہ کی یہ ملاقاتیں مکاشفے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سپر چولزم spiritualism (استحضار الارواح ) سے ایسے نظاروں کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ایسے نظاروں کے دیکھنے سے انسان کے ارادے کا کوئی تعلق ہے۔ اخروی زندگی میں بھی جن ارواح کو اس دنیا کے متعلق علم دیا جاتا ہے ، اس کا تعلق بھی اسی قسم کے مکاشفہ سے ہے جو ملائکہ کے توسط اور اذنِ الہی سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس اخروی مکاشفے کا اس دنیوی مکاشفہ پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ بَاب ۸۷: التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ عذاب قبر سے پناہ مانگنا ١٣٧٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۱۳۷۵ محمد بن شنی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) یحی (بن حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) شعبہ نے عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ہم سے بیان کیا، کہا عون بن ابی حنیفہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت براء بن عازب الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوْبَ رَضِيَ سے، حضرت براء نے حضرت ابوایوب (انصاری) رضی اللہ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عنہم سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لگے۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ آپ نے ایک آوازسنی تو فرمایا: