صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 754 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 754

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۴ ٢٣ - كتاب الجنائز ہے اور مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ کا عنوان قائم کر کے ان تمام روایتوں میں سے صرف چند ایک مستند روایتیں قبول کی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت حضرت عائشہ کی ہے۔ ( روایت نمبر ۱۳۷۱) حضرت عائشہ نہ صرف چوٹی کے محدثین میں سے ہیں بلکہ نہایت ثقہ اور اعلیٰ درجہ کی فقیہہ بھی ۔ چنانچہ انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دے کر حدیث کے غلط مفہوم سے بچایا ہے۔ سب سے آخر میں قتادہ کی روایت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ( نمبر ۱۳۷۴) جس میں قبر کشادہ کرنے اور لوہے کی گرز سے سزا ملنے کا ذکر ہے۔ یہ روایت نمبر ۱۳۳۸ میں گزر چکی ہے۔ دونوں کے الفاظ اور مفہوم میں فرق ہے۔ فتاده خود تو نہایت ثقہ ہیں مگر ضبط الفاظ میں ان کا حافظہ قوی نہ تھا۔ علاوہ ازیں اس روایت کی سند سابقہ سند سے مختلف ہے۔ جس کی وجہ سے الفاظ میں اختلاف ہے۔ قتادہ کی یہی روایت صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان اور ترمذی وغیرہ میں بھی منقول ہے جس میں قبر کے سترگز فراخ ہونے کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ وہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ (مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها، باب عرض مقعد الميت من الجنة او النار عليه) (ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر) (صحيح ابن حبان، کتاب الجنائز، فصل فی احوال الميت في قبره ذكر الاخبار عن وصف التنين الذى يسلط على الكافر فی قبرہ تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۳۰۲۔ غرض اس مختصر تبصرہ سے ظاہر ہے کہ اس روایت سے متعلق بیانات مخدوش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے سب سے آخر میں رکھا گیا ہے؟ ہے اور حضرت براء بن عازب کی روایت کو مقدم کیا گیا ہے جس کا مضمون مختصر اور جس کی تائید مابعد کی روایتوں سے ہوتی ہے۔ اس تقدیم و تاخیر میں امام موصوف کی رائے مضمر ہے۔ روایت نمبر ۱۳۷۴ میں قتادہ کا یہ قول کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ قبر کشادہ کر دی جائے گی ، اس سے ان روایات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جن کے بیانات سخت مضطرب اور مختلف ہیں۔ جہاں بھی قتادہ کی روایت سے متعلق امام موصوف کو ضبط الفاظ کے بارے میں تردد ہوا ہے وہاں اس سقم کا تدارک کسی نہ کسی طریق سے کیا ہے۔ (اس تعلق میں دیکھئے کتاب الحرث والمزارعة، بابا، تشریح روایت نمبر ۲۳۲۰) روایت نمبر ۱۳۷۰ سے استدلال کیا جا سکتا تھا کہ مردے کو انسان اپنی بات سنا سکتا ہے۔ مگر د انسان اپنی بات سنا سکتا ہے۔ مگر روایت نمبر ۱۳۷۱ میں آیت إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سے اس کارڈ کیا مگر اس کے باوجود حضرت عائشہ نے عذاب قبر تسلیم کیا ہے۔ ان کی ہمشیرہ حضرت اسماء کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ ( روایت نمبر ۱۳۷۳) وہ بھی اس وقت موجود تھیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب قبر کا ذکر کر کے صحابہؓ کو اس سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی اور اس عذاب کی نوعیت وہی ہے جس کا ذکر آیت النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غَدُوًّا وَ عَشِيًّا میں وارد ہوا ہے۔ روایت نمبر ۱۳۷۳ میں قبر کے جس امتحان کا ذکر وارد ہوا ہے، اس کے متعلق دیکھنے کتاب الکسوف تشریح باب نمبر ۹ و باب ۱۴۔ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا : روایت نمبر ۱۳۷۰ میں مشرکین مکہ کے مقتولو دلوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال اور صحابہ کرام کے آپ سے دریافت کرنے کا ذکر ہے کہ کیا آپ مردوں کو بلاتے ہیں؟ جس پر آپ نے فرمایا: مَا أَنْتُمْ بِاسْمَعَ مِنْهُمْ وَلكِنْ لا يُجِيبُونَ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ۔ البتہ وہ جواب نہیں دیتے ۔ یہ سوال