صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 753
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح 207 ٢٣ - كتاب الجنائز مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ : معتزلہ میں سے ایک فریق نے عذاب قبر کا انکار کیا ہے۔(فتح الباری جز ۳ صفحه ۲۹۶) یہ باب قائم کر کے امام بخاری نے مستند روایتوں سے اس مسئلہ کے صحیح ہونے کا ثبوت دیا ہے۔قطع نظر اس بحث سے کہ آیا وہ عذاب روح پر وارد ہوگا یا جسم پر اور یہ کہ قبر سے مراد آیا یہی زمینی قبر ہے یا وہ مقام ہے جو موت کے بعد روح کا ٹھکانا ہے۔جہاں (بمصداق) آیت فَأَقْبَرَهُ ثُمَّ إِذَا شَاءَ انْشَرَهُ۔اللہ تعالیٰ اس کو ٹھہراتا ہے اور وہیں سے اس کا نشر یعنی دوبارہ زندگی شروع ہوتی ہے۔اخبار کے معنی ہیں: ان يُنْزِلَهُ مَنْزِلَهُ۔(لسان العرب تحت لفظ قبر ) یعنی اس کو اپنے منزل مقصود پر اُتارنا بعض قو میں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں۔قبروں میں دفن ہونے والوں کی تعداد ان کے بالمقابل محدود ہے اور ایسے مردے کروڑوں کی تعداد میں ہیں اور لاکھوں انسان درندوں اور پرندوں کی خوراک ہوتے ہیں اور ہزاروں ڈوب کر مرتے ہیں۔موت کے بعد بھی سے سوال و جواب ہوگا۔خواہ قبر میں مدفون ہو یا جلایا گیا ہو یا غرق ہویا پرندوں نے اسے نو چا ہو یا درندوں نے کھا لیا ہو۔چونکہ موت کے بعد کسی مردہ جسم کو نہ بٹھایا جاتا ہے نہ مردہ جسم میں کوئی حالت پیدا ہوتی ہے جس سے پتہ لگے کہ وہ کس قسم کی پرسش یا گرفت میں ہے۔نہ قبر میں تنگی یا کشادگی کی صورت واقع ہوتی ہے۔اس لئے بعض علماء نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عذاب قبر سے مراد اس قبر کا عذاب نہیں بلکہ یہ عذاب برزخی قبر سے متعلق ہے۔قرآن مجید کے الفاظ إِذَا شَاءَ انْشَرَهُ سے نیز کتاب الجنائز باب ۷۳، کتاب الصلوۃ باب ۴۸ سے بھی ان علماء کے خیال کی تائید ہوتی ہے۔اگر اسی ظاہری قبر میں اور خا کی جسم کے ساتھ عذاب کا سلسلہ محدود ہوتا تو ایک ہی گڑھے میں ایک سے زیادہ مردوں کو اکٹھا دفن نہ کیا جاتا اور نہ مشرکین کی قبریں کھولی جاتیں۔آیت محولہ بالا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ اسے ٹھہراتا ہے، وہیں سے اس کا نشور بھی کرتا ہے۔امام بخاری نے عذاب قبر کا عنوان قائم کر کے جن آیات کا حوالہ دیا ہے اُن سب سے موت کے بعد ہی سلسلہ عذاب کا شروع ہو جانا ثابت ہے۔گویا امام موصوف نے روایات محولہ بالا میں وارد شدہ سزا کی تشریح ان آیات کی روشنی میں کی ہے اور ظاہر ہے کہ ان میں عذاب قبر کا ذکر نہیں بلکہ مطلق عذاب کا ذکر ہے جو تین زمانوں میں ممتد ہے۔ایک بوقت نزع یعنی اِذِ الظَّلِمُوْنَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ (الانعام: ۹۴) دوسرا بحالت برزخ یعنى يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا (المؤمن: ۴۷) اور تیسرا عذاب یعنی يَومَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (المؤمن: ۴۷) ان آیات کا حوالہ دے کر عذاب قبر کی وضاحت کی گئی ہے۔امام بخاری کا مذہب یہ ہے کہ حدیث قرآن مجید کے تابع اور اس کی شارح ہے۔عذاب قبر ان کے نزدیک وہ عذاب برزخ ہے جس کا ذکر آیت يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا میں کیا گیا ہے۔اس آیت پر محولہ بالا روایتیں محمول کی جائیں گی۔غرض موت کے بعد سلسلہ حیات ایک ہی ہے اور وہ بلا انقطاع ہے۔خواہ عالم برزخ میں ہو، خواہ عالم بعث میں۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی، دوسرے سوال کا جواب، صفحہ ۸۲ تا۹۹ ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۹۶ تا ۴۱۳۔عذاب قبر سے متعلق بہت سی روایتیں مشہور تھیں جنہیں امام موصوف نے بوجہ غیر معتبر ہونے کے رڈ کر دیا